Khabardar E-News

کوئٹہ1935 میں آج کے دن کیسے تباہ ہوا

183

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر؛محمد ارسلان فیاض

بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں

ہوتا ہے تاہم اس کی یہ تحقیق نہیں ہوسکی کہ اس شہر کی ابتداء کب اور

کیسے ہوئی کوئٹہ پیالہ نما وادی میں واقع ہے

یہ شہر مشرق میں کوہ مردار مغرب میں چلتن شمال میں کوہ تکتو

اورجنوب میں باغات اور بولان کے وسیع پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے

تاہم 31مئی1935ء کو آنے والے قیامت خیززلزلے نے شہر کو ملبے

کے ڈھیر میں تبدیل کردیا آج سے88 سال قبل 30-31 مئی1935ء کی

شب کوئٹہ کی پوری آبادی دن بھر محنت ومشقت کے بعد ہر قسم کے

فکروں سے بے نیاز ہوکر نیند کی حسین وادی میں پہنچی ہوئی تھی

کہ فرشہ اجل آناً فاناً سب کو حالیہ تباہ کن زلزلے نے بڑے بوڑھے بچے

جوان عورت و مرد بیمار اور صحت مند غرضیکہ کسی کے ساتھ فرق

روا نہ رکھا اور زلزلے نے دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں زندگی

کی ہر علامت کو ختم اور موت کے بھیانک پروں کاسایہ پورے شہر پر

منڈلانے لگا ۔

سرکاری رپورٹوں اور کچھ غیبی شاہدوں کے مطابق زلزلے کا وقت

صبح تین بج کرتین منٹ تھاج جب ایک خوفناک گڑگڑاہٹ پیدا ہوئی ایسا

محسوس ہوا کہ زمین نے گویا اپنے محور کو چھوڑ دیا ہو اور اس کے

بعد چند ہی سیکنڈوں میں پورا شہر زمین بوس ہوگیا

ا س وقت کی سرکاری رپورٹس کے مطابق 50ہزر لوگ اس خوفناک

زلزلے کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے جس کے فوراًبعد فوج نے

امدادی کام شروع کردیا ہے

اور متاثرین کی ہر قسم کی امداد کی وائسرائے ہند نے 3 جون1935ء

کوکوئٹہ کے زلزلے زدگان کی امداد کیلئے فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے

وقت اس کو اڑیسہ اور بہار کے زلزلوں سے شدید بتایا خوفناک زلزلے

کے بعد کوئٹہ شہر میں شدید تاریکی تھی


پولیس فورس کے تمام جوان مر چکے تھے کئی منٹ تک لوگوں کو

سمجھ نہ آیا کہ ہوا کیاہے ہر طرف بچائو بچائو کی آوازیں آرہی تھیں

زندہ رہ جانے والوں کو کافی دیر بعد معلوم ہوا کہ شہر زلزلہ کا شکار ہوا

ہے اس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنٹ جنرل کارسلیک نے زلزلہ کے

فوراً بعد کنٹرول روم سے رابطہ قائز کیا

انہوں نے بتایا کہ شہر میں گردوغبار اور ہر طرف چیخوں کی آواز بلند

ہے خیال ہے کہ شہر تباہ ہوگیا ہے

انہوں نے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئےفوج کو اسٹینڈ بائی کردیا سب

سے پہلے زندہ بچنے والوں کو بچایا گیا ڈاکٹروں نے لگاتار زخمیوں کو

مرہم پٹی کی ماہرین نے1935ء کے زلزلہ کا مرکز مغرب میں بتایا تھا

جو کہ کوہ چلتن سے شروع ہوکر رہ درہ بولان مری بگٹی تک چلایا جاتا

تھا لیکن اللہ نے کرم کیا یہ نوبت نہیں آئی۔

1935 زلزلے کے بعد برطانوی حکومت نے کوئٹہ میں امدادی کام

شروع کردیا پہلے تین روز لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے کا80فیصد کام

مکمل ہوگیا دس روز بعد تقریباً تمام لاشوں اور زخمیوں کو نکال لیا گیا

تھا

زخمیوں کے علاج معالجے کا کام شروع کردیا گیا1935ء کے زلزلے

کے بعد حکومت ہند نے کوئٹہ شہر کو دوبارہ اسی جگہ آباد کرنے کا

فیصلہ کیا

اور جاپانی ماہر طبقات الارض کے تعاون سے اس کی تیاری شروع کی

اورزلزلہ پروف مکانات کی طرز کا اسٹرکچر فراہم کیا

کوئٹہ کے شہریوں نے 1935سے کیا سیکھا

اور1937ء کو بلڈنگ کوڈ جو کوئٹہ میونسپلٹی کیلئے متعارف کرایا

جو14جنوری کو جاری کیا اور یکم فروری1937ء سے لاگو ہوگیا تھا

انگر یزوں نے پون ٹائپ کے زلزلہ پروف مکان مردار پہاڑ کے دامن

میں تعمیر کیلئے اس کا نام ٹین ٹائون رکھا اور 170 کوارٹر تعمیر کئے

لیکن قابل افسو امر یہ ہے کہ ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا

مئی1935ء کو50ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل ہوگئے لیکن آج کوئٹہ

میں بلڈنگ کوڈ کے برعکس چھ سے آٹھ منزلہ عمارتیں تعمیر کی جارہی

ہیں کوئی روکنے والا نہیں جو مستقبل میں زلزلہ کی صورت میں کسی

بڑی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے

حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر پر

پابندی عائد کرے ۔

Comments are closed.