Khabardar E-News

ڈبلیو ڈبلیو ایف : بلوچستان میں سیلابی پانی کو بہترانداز میں قابل استعمال بنانےکا منصوبہ

27

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی ) بین الاقوامی سطع پر جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کرنے والے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے زیرِ اہتمام کوئٹہ میں ری چارج پاکستان کے حوالے سے جمعہ کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،،، جس میںسیکرٹری ماحولیات صبور کاکڑ، سیکرٹری جنگلات صدیق مندوخیل، ڈی جی ایگریکلچر مسعود بلوچَ، ڈائریکٹر بلوچستان رورل پروگرام نادر گل بڑیجسینیر ڈائریکٹر wwfڈاکٹر مسعود ارشد اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کنٹری ڈائریکٹر طاہر رشید کے علاوہ بلوچستان کے متعلقہ محکموں کے آفیسران اور صوبے کے مختلف علاقوں کے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت-
اس موقع پر منتظمین کس کہنا تھا کہ ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے سٹیک ہولڈرز کو اعتما میں لینا اور ان سے تجاویز کوعملی جامہ پہنانا ہے –
سینیر ڈائریکٹر wwfڈاکٹر مسعود ارشد نے کہا کہ ری چار ج پاکستان کے تحت پورے ملک میں ورکشاپس کرارہے ہیں اور اس منصوبے کا مقصد بلوچستان میں سیلابی پانی کو روکنے اور اس کو کارامد بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو اعتماد میں لینا تھا- امذکورہ منصوبے سے نہ صرف زیادہ سے زیادہ سیلابی پانی کو کار آمد بنایا جاسکے بلکہ اس میں عام لوگوں کو اس طرح شامل کیا جاے تاکہ انہیں اسکا فاہدہ بھی زیادہ ہو –
انہوں نے کہاکہ ورکشاپ میں مختلف مکتبہ فکر کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کا آزالہ کرنے لیے بہت اچھے تجاویز آے ہیں اور کوشش ہوگی ان تجاویز کو ری چارج پاکستان منصوبے کا حصہ بنایا جاے –

سیکرٹری ماحولیات حکومت بلوچستان صبور کاکڑ نے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف ری چارج پاکستان کے تحت بلوچستان میں ایک منصوبے کا اغاز کیا جارہا ہے جس کا مقصد فلڈ واٹر یاسیلابی پانی کو کار آمد بنانے کے لیے اقدام کرنا ہے اس کے علاوہ صوبے میں جاری خشک سالی کے باعث عام لوگوں باالخصوص زمینداروں کی معاشی حالت کی بہتری اور انہیں متبادل ذریعہ معاش یازراعت متعارف کرانا ہے –

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جو کلائمٹ چینج یا موسمی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوئ ہے –
سیکرٹری ماحولیات نے مذید کہا کہ بلوچستان کا ایک بڑا حصہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوا ہے جس کی بحالی کے لیے صوبائ حکومت ری چارج پاکستان کے علاوہ مختلف ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس کے تحت صوبے کے زیادہ ترعلاقوں میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئ سطع کو دوبارہ بحال کرنا ہے –

ایک سوال کے جواب میں صبور کاکڑ کا کہنا تھا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی کو اس طرح زخیرہ کیا جاسکے تاکہ بعد میں عام لوگ اور زمیندار اس سے زیادہ فاہدہ اٹھا سکیں –

سیکرٹری جنگلات صدیق مندوخیل نے روزنامہ خبردار کوئٹہ کو بتایا کہ ری چارج پاکستان صوبے سے خشک سالی میں اہم ثابت ہوسکتی یے باالخص جنگلات کے حوالے اس پروگرام میں بہت سے ایسے منصوبے ہیں جس کے تحت بلوچستان کے کہی علاقے جو اس وقت خشک سالی سے متاثر ہیں وہاں جنگلات کے ساتھ لائیوسٹاک اور زراعت کو بھی فاہدہ ہوگا –
ڈائریکٹرجنرل مسعود احمد بلوچ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان مسلسل خشک سالی سے شدید طور پر متاثر ہوا ہے لیکن اس منصوبے کا زراعت اور زمینداروں کی معاشی حالات پر بہت مثبت اثرات مرتب ہونگے  ان کے مطابق بلوچستان آدھا پاکستان ہے یعنی 34 ملین ایکٹر زمین بلوچستان کے پاس ہے

-انہوں نے کہا کہ فلڈ یا سیلابی پانی کو کار آمد بنانے کے لیے بندات کی آشد ضرورت ہے اگر زمینداروں کو چھوٹے بڑے بندات بناکر دیا جاے تواس سے ایک بار پھر بلوچستان زراعت کے میدان میں نمایاں ترقی کرے گی – بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطع پر خوراک پیدا کرنے میں بھی خود کفیل ہو جائینگے –

ڈائریکٹر بلوچستان رورل پروگرام ( بی آر ایس پی ) نادر گل بڑیج جو بلوچستان کے دیہی علاقوں کے لیے چاج پاکستان پروگرام کو ایک مثبت منصوبہ قرار دیتے ہوے کہا کہ صوبے میں ایسے کہی علاقے ہیں جہاں بہتر انداز میں سیلابی پانی کو اسٹر کرکے ری چارج کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ ری چارج کے لیے مختلف مقامات پر ڈیمز بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے – جس سے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام میں بھی فاہدہ ہوگا- جس کے براہ راست مثبت اثرات بلوچستان کے عام لوگوں اور زمینداروں کے ساتھ مال میویشی پالنے والوں پر بھی مرتب ہونگے –
کوئٹہ میں ماہر ماحولیات اور آی سی یو این بلوچستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فیض کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں ماضی میں سیلابہ زمینین ہوا کرتئ تھی جس سے زمیندار فاہدہ اٹھاتے تھے – انہوں نے کہا کہ ری چارج پاکستان کے منصوبے تفتان سے ژوب تک کے علاقے جو اس وقت زیر زمین پانی کی قلت سے دوچار ہیں انہیں بہت فاہدہ ہوگا-
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پرندوں اور جنگلی حیات کا مسکن بھی ہے باالخصوص سائبریا سے آنے والے پرندے یہاں قیام کرتے ہیں لیکن واپسی میں انکی تعداد میں کمی واقع ہوجاتی ہے جن میں سے اکثر ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہوجاتے ہیں –
ڈائریکٹر جنگلات نیاز احمد کاکڑ نے کہا کہ مستقبل کا دارمدار پانی پر ہے اور حالیہ برسوں کے دوران کہی ممالک کے درمیان جھگڑے کی ایک بڑی وجہ پانی ہے- اور بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطع تشویشناک حد تک گرچکی ہے جس کو اوپر لانے کے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے –

جہاں تک ری چار ج پاکستان پروگرام کا تعلق ہے تو اس پر عمل درامد سے بلوچستان کو بہت فاہدہ ہوگا باالخصو ان علاقوں کو جہاں خشک سالی زراعت اور مالی کے شعبے تباہ ہوے ہیں – اسکی ایک بڑی وجہ موسمی تبدیلی ہے خاص کر بلوچستان کے سرد علاقوں میں جہاں سردی ستمبر کے بعد شروع ہوتی تھی اور مارچ اپریل تک سردی اور بارشیں ہوتی تھی اب صرف جنوری میں ایک ماہ کےلیے سردی آتی ہے-
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرد علاقوں میں گیس نہ ہونے کے باعث بھی جنگلات سخت متاثر ہو رہے ہیں چاغی ، مسلم باغ اور زیارت جیسے علاقوں میں لوگوں کو گیس کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کے باعث لوگ جنگلات کھاٹنے پر مجبور ہیں –

مقررین نے بلوچستان کے کئی علاقوں کو اس منصوبے میں نظراانداز کئے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوے مختلف تجاویز پیش کیے جس پرڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر طاہررشید نے یقہن دھانی کرائ کہ شرکاء کے تمام تجاویز پرغور کرکے اس سے منصوبے کا حصہ بنانے کے لیے ہرممکن اقدام کیا جاےگا-

Comments are closed.