Khabardar E-News

خواتین کو ورک پلیس پر تحفظ کے لیے شعور آگہی کی ضرورت،سی پی ڈی

26

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ کام کرنے والے مقامات پر خواتین کی ہراسمنٹ کے ساتھ دیگرکہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے حل کرنے کی ضرورت ہے – 

غیر سرکاری تنظیم سنٹر فار پیس اینڈ ڈولپمنٹ ( سی پی ڈی ) کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا

جس میں خواتین کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی –

سمینار میں کہا گیا کہ گھروں سے باہر کام کرنے والی خواتین کو ہراسمنٹ کے ساتھ کہی ایسے

مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے جو حل طلب ہیں

 پاکستان ورکرفیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ  آج کا یہ سمینار ان خواتین کے بارے میں تھا جو حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹرز میں کام کررہی ہیں

جس کے باعث انہیں ہراسمنٹ کے علاوہ بہت سے ایسے مسائل کا سامنا کرناپڑتاہے جونہ صرف حل طلب ہیں بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے معمولی سی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی

سمینار میں شریک زیادہ ترخواتین کا کہنا تھا کہ ورک پلیس پر انکو درپیش مسائل کے حل کے لیے لوگوں شعور آگہی کی ضرورت ہے

  صوبائی صدر لیڈی ہلتھ پروگرام بی بی جان کاکڑ نے کہا کہ خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں برابر کے مواقع ملنے چاہیے

اور جہاں پر خواتین کام کرتی ہیں وہاں خواتین کے لیے کام کے دوران آسانیاں پیداکی جائیں

سی پی ڈی تنظیم کے صوبائی پروگرام منیجر آمین اللہ بڑیچ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے خواتین کو ورک پلیس  کے مقام پر آہستہ آہستہ بتہری آرہی ہے

سمینار کے شرکاء کے مطابق کہ بلوچستان میں خواتین کا احترام زیادہ ہے لیکن دوسرے صوبوں کے مقابلے میں یہاں خواتین کو حقوق کم دیے جاتے ہیں –

Comments are closed.