Khabardar E-News

بلوچ خواتین نے ہمیشہ امن ، رواداری اور صلح کےلیےکام کیا ہے – بشرٰا رند

9

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(خبردار ڈیسک )بلوچستان کے پارلیمنٹیرین خواتین نے کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کے

عمل کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی قوتوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے

کہ وہ امن وامان خراب کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کریں خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والی خاتون

شاری بلوچ ذہنی مریضہ تھی جس کیلئے وہ ادویات لے رہی تھی

ا ن خیالات کااظہار زبیدہ جلال،بشریٰ رند ماہ جبیں شیرانی نے جمعرات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں مشترکہ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

بشری رند نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی میں ہونیو الے دھماکے کو بزدلانہ عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ

بلوچستان خواتین کو ٹارگٹ کیا گیا ہے بیرونی طاقتوں نے ہمیشہ سے کوشش کی ہے کہ امن وامان کی

صورتحال کو خراب کیا جائے

اور وہ لوگ جو تعلیم کے حصول کیلئے باہر نکل رہے ہیں ان کو روکا جائے۔

بلوچ خواتین نے ہمیشہ امن اور رواداری کےلیےکام کیا ہے – بشرٰا رند

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب شاری بلوچ کی شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے

جس نے کہا ہے کہ میری خاتون ذہینی مریضہ تھی اور ادویات لے رہی تھیں وہ اپنی ذہنی حواس میں نہیں تھی

یہ قدم اٹھایا،

اس عمل سے اگر کوشش کی جارہی ہے کہ بلوچ خواتین کو پسماندگی اور تکلیف دہ صورتحال سے گزا جائیگا

تو ہم اس کی کسی صورت اجاز ت نہیں دیں گے ہم اپنی قوم کیساتھ ملک کیساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں تھا

مگر افسوس کہ ذاتی مفادات کیلئے فوج کا نام لیا جار ہاہے۔

انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتوں کی کوشش رہی ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں

کیوں کہ پاکستانی واحد قوم ہے جب بھی ملک کی بات آتی ہے تو عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ سرحدوں پر

نکلنے کو تیار رہتے ہیں

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہماری دلوں سے پاک فوج کی محبت کو ختم کرسکتے ہیں

تو یہ اایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے

وزیراعظم شہباز شریف آج کویٹہ کراچی قومی شاہراھ پر کام کا افتتاح کرینگے

تاریخ میں بلوچ خواتین کا اہم کردار رہا ہے کبھی بزدلانہ عمل کا حصہ نہیں رہے۔

فخر ہے کہ ہم بلوچ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ہم یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ اپنے مہمانوں پر وار کریں۔

انہوں نے کہاکہ شاری بلوچ کے عمل سے بلوچ قوم سے متعلق جومنفی تاثر گیا ہے اس کو ذال کرنا ہے

وہ ایک ذہنی مریضہ تھیں

اس کے شوہر نے بھی اعتراف کیا کہ ہماری اندرونی حالات خراب ہیں۔

سابق وفاقی وزیر ورکن قومی اسمبلی زبیدہ جلال نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی حادثے کا نشانہ بننے والے

چائینز کے اہلخانہ سے ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کیلئے یہ ایک انتہائی تکلیف دے وقت

ہے۔

پہلی مرتبہ ایک خاتون خودکش حملہ آور کی دھماکہ میں ملوث ہونے پر سب خواتین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی

ہے

کہ اس کی مذمت کریں انہوں نے کہاکہ شاری نے جس وجہ سے یہ کام کیا وہ خود جانتی ہونگی تاہم ظاہر ہے

جب تک کوئی نفسیاتی مرض لاحق نہیں ہوگا کوئی بھی عورت اپنے دو بچوں کو چھوڑ کر یہ انتہائی قدم نہیں

اٹھائے گی۔

انہوں نے کہاکہ شاری بلوچ اور میرا تعلق ایک ہی علاقہ سے ہے اس کی پوری فیملی سرکاری ملازمین پڑھے

لکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسا واقعہ ہے جو سب کیلئے باعث تکلیف ہے۔

 ان کے آرگنائزر نے سوشل میڈیا پر جو بیان جاری کیا ہے کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

 کراچی، گوادر، باشاہ ڈیم پر بھی چائینز پر پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں

مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام ان کیساتھ نہیں ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ کون سے ملک

اس میں ملوث ہیں۔

،ماجبین شیران نے کہا کہ کراچی دھماکے میں ملوث خاتون کا تعلق بدقمستی سے میرا علاقہ تربت ضلع کیچ

ہے

مجھے سمیت دیگر لوگ اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں

بلوچ قوم مہمان نوازہیں ہم نے اپنے چائینز مہمان کے او پر اس طرح کا حملہ کرکے کیا پیغام دے رہے ہیں

عورت جو امن کا پیکر اور قوم کا معمار ہیں شاری بلوچ کے شوہر نے اعتراف کیا ہے

کہ وہ ذہنی مریض ہیں اورذہنی مریض کیلئے یہ آسان راستہ ہے

کیوں کہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی زندگی ختم ہے مزید مثبت چیزوں کی طرف و ہ نہیں سوچھتی۔

انہوں نے کہا کہ شاری کے خاندان کیساتھ ہماراخاندانی تعلق ہے یہ انتہائی شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہے

اس کے والد اور بھائی پڑے لکھے لوگ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری خواتین جنگوں میں ثالث کا کردار ادار کرتی ہیں

مہمان اساتذہ پر اس قسم کا حملہ کرنا کسی صورت درست نہیں ہے اس سے انتہائی منفی پیغام گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا بھائی پاک فوج کے شہید ہوا بلوچ بچوں کی بھی ملک کیلئے قربانیاں دینے پر قبرستانیں

آباد ہیں۔

Comments are closed.