Khabardar E-News

دنیا کا سب سے مہنگا اور جدید ترین طیارہ: قیمت دو ارب ڈالر

93

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن: بی ٹو اسپرٹ بمبار طیارہ اگرچہ 30 برس قبل بنایا گیا تھا لیکن اب بھی یہ دنیا کا مہنگا اور جدید ترین طیارہ ہے اور اس کی قیمت تین کھرب روپے یعنی دوارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

1989 میں اسے سوویت امریکہ سرد جنگ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ ریڈار پر دکھائی نہ دینے والا یہ طیارہ سوویت فضاؤں کے اندر گھسنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے روایتی اورغیرروایتی (ایٹمی) ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پھر دیوارِ برلن گرگئی اور یوں سردجنگ کی آگ بھی بجھ گئی۔

تاہم 1993 میں اسے امریکی فوج میں شامل کیا گیا لیکن 1999 میں بوسنیا اور کسووو کی جنگ میں اس کا پہلا استعمال ہوا۔ اب تک جنگ میں ایک بھی بی ٹو طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ یہ ہوا میں ایندھن لے سکتا ہے اور دنیا کے کسی بھی مقام پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

امریکہ میں عسکری طیاروں کی ماہر ربیکا گرانٹ کہتی ہے کہ بی ٹو اسپرٹ بمبار اپنی طرز کا واحد اور انوکھا طیارہ ہے۔ اس طیارے کو اڑتے ہوئے پر (فلائنگ ونگ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کمال غیرمعمولی ڈیزائن ہے۔

اس وقت تین بمبار طیارے امریکی فضائی بیڑے میں شامل ہیں جن میں ایجائل روک ویل بی ون لینسر بھی شامل ہے جس کی اول آزمائش 1974 میں کی گئی تھی۔ یہ انتہائی بلندی پر اڑتا ہے۔ اس کے برخلاف بی ون بمبار طیارہ اس کی الٹ بنایا گیا تھا یعنی وہ نہایت نچلی پرواز کرتا ہے۔

بی ٹو اسپرٹ اتنا مہنگا کیوں ہے؟

بی ٹو اسپرٹ طیارے کی قیمت اتنے ہی وزن کے 8 گنا سونے سے بھی زیادہ ہے۔

اس طیارے کو بنانے کےلیے خاص طرح کی ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہیں جو اس سے پہلے موجود نہ تھیں۔ اس کی تحقیق، مٹیریل اور پورے نظام پر زبردست لاگت آئی ہے اور اسی وجہ سے یہ سب سےمہنگا طیارہ ہے۔

ڈیزائن کے علاوہ اس کے اوپر کا مٹیریل بھی پانی کو بھگاتا ہے اور اسی پرت کو برقرار رکھنے پر مسلسل رقم خرچ ہوتی ہے۔ ہر ایک پرواز کے بعد اس طیارے کے اوپری سطح کی خاص مرمت کی جاتی ہے جس پر بہت زیادہ اخراجات اٹھتےہیں۔

طیارے کو ہر پانچ چھ سال بعد خاص پینٹ سے رنگنا پڑتا ہے اور ایک دفعہ کی رنگائی پر 6 کروڑ ڈالر خرچ ہوتےہیں۔

Comments are closed.