Khabardar E-News

کوئٹہ: 15 دن کے اندر لاپتہ طلباء کا سراغ لگا لیا جائے گا، سردار کھیتران

36

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتران کی جامعہ بلوچستان میں احتجاجی طلباء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے مجھے مذاکراتی کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا جو یکم نومبر کو جامعہ بلوچستان کے 2 طالب علم اغواء کا معاملہ دیکھ رہے تھے – جس کی بازیابی کیلئے احتجاجاً جامعہ بلوچستان کے طلباء نے یونیورسٹی میں دھرنا دی تھا –
انہوں نے کہا کہ طلباء تنظیموں نے ہمیں عزت و احترام دیا ہےاور احتجاج کے دوران طلباء سے مذکرات کیلئے کئی بار ملاقاتیں کی ہیں جس کےباعث اغواء کیے گئے طلباء کے معاملے کو وزیر اعلیٰ بلوچستان خود دیکھ رہے ہیں،اور اس دوران طلباء کو قائل کیا ہے کہ تمام صوبے کے تعلیمی اداروں کو فعال کر دیں،
صوبائی وزیر سردار کھیتران کے مطابق بلوچستان بھر میں کل سے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہوجاے گی اور یونیورسٹی کے طلباء نے احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا کہہ دیا ہے،اب ان کا احتجاج جامعہ بلوچستان تک محدود رہے گا، تاہم طلباء نے کہا ہے کہ دونوں طالب علموں کی بازیابی تک جامعہ بلوچستان بند رہے گی،
سردار کھیتران نے یقین دھانی کرائی کہ 15 دن کے اندرلاپتہ طلباء کا سراغ لگا لیا جائے گا، ا
ایک سوال کے جواب مین صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان پہلے پسماندہ ہے نہیں چاہتے تعلیمی ادارے بند رہیں کیونکہ بلوچستان کے طلباء و طالبات باصلاحیت ہیں،
دوسری جانب احتجاجی طلبہ کے نمائندوں نے کہا کہ ہم اپنا احتجاج ختم نہیں بلکہ 15 یوم کیلئے ملتوی کر رہے ہیںاور طلباء کی بازیابی کے لیے حکومتی مذکراتی کمیٹی سے اب تک ہماری 6 نشستیں ہو چکی ہیں
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت ہمارے ساتھیوں کی بازیابی میں سنجیدگی سے کردار ادا کرے گی اور اگر 15 دن میں طلباء کی بازیابی نہ ہوئی تو ہم پھر احتجاجی دھرنا دینگے
ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدقسمتی سے طلباء کو لاپتہ کرنا معمول بن گیا ہے،

Comments are closed.