Khabardar E-News

وزیراعلی قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام، 11ارکان نے حمایت کی

3

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے وزیراعلی میرعبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوتے

ہی ناکام ہوگئی اور تحریک کے حق میں صرف گیارہ ارکان کھڑے ہوے جبکہ تحریک کی کامیابی کے لیے13

ارکان کی حمایت ضرورت تھی جس پر سابق وزیراعلی جام کمال نے کہا ہے کہ حکومت نے انکے اتحادیوں

کو پریشرائزکیا گیا ہے –

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو پانچ گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابرموسی خیل کی

صدارت میں شروع ہوا

جس میں رکن اسمبلی میر ظہور بلیدی نے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم

اعتماد ایوان میں پیش کی

جب ڈپٹی اسپیکر نے تحریک پر راے شماری کرائی توتحریک کے حق میں صرف گیارہ ارکان گھڑے ہوے –

جس پر ڈپٹی اسپیکر نے تحریک کو ناکام قراردیدیا اور کہا کہ تحریک کو بحث کے لیے منظوری کے لیے

بھی13 ارکان کی حمایت ضروری ہے

جس وقت ایوان میں تحریک پیش ہوئی تو اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے 25 ارکان موجود تھے

تحریک کی ناکامی پر جب محرک ظہوربلیدی نے اظہار خیال شروع کیا تو ایک رکن نے کورم کی نشاندہی کی

جس پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں ارکان کی تعداد 65 ہے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33

ارکان کی حمایت لازمی ہے

جب 18 مئی کو تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی تو اس وقت تحریک عدم اعتماد پر 14 ارکان نے دسختط کیے

تھے

تاہم آج دستخط کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے نعیم بازئی اور پاکستان تحریک انصاف کے مبین

خلجی حاضر نہیں تھے

اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ہم نے کہا تھا ہمیں 8 ووٹ ملیں

دس ملیں مسئلہ نہیں

وزیراعلی قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام، 11ارکان نے حمایت کی

تاہم تحریک پیش کرنے سے مختلف لوگوں کے عزائم عیاں ہوگئے

تحریک عدم اعتماد پیش نہ ہونے پر کن اراکین نے ڈیسک بجائے گئے سب نے دیکھا

انہون نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا ہمارا نمبر گیم پورا نہیں

مگر جن اراکین نے دستخط کیے وہ نہیں آئے سوالات اُن پر اٹھائے گئے

بقول انکے نوکری بیچنے، کمیشن لینے والی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی

اور مشاورت کے بعد آگئے گا لائحہ عمل طے کریں گئے

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ بطور پارٹی صدر اراکین کو نوٹس جاری کریں گئے

اور ساتھ ہی پی ڈی ایم کی ذمہدار پارٹیوں سے رابطہ کریں گئے

کیونکہ جمعیت علما اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمین ووٹ نہیں کیا

بعدآزاں صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ جام صاحب کی قیادت میں تحریک عدم اعتماد کے لیے آئینی طور

پر 20 فیصد حمایت درکار تھی لیکن تحریک عدم اعتماد کے حق میں صرف گیارہ اراکین ہی کھڑے ہوئے

انکے بقول کلکولیشن کیئے بغیر لڑائی نہیں لڑنی چاہیے تھی

اور جام صاحب کو چاہیے تھا صوبے کے لیے پانچ سو ارب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی سے لاتے

تاہم اس وقت صوبائی بجٹ تیار کیا جارہا ہے اس وقت صوبے کو ڈسٹرب کرنا عوام جے کے ساتھ انصافی ہے

بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اور صوبائی وزیر میر ظہوربلیدی نے قدوس حکومت کے خلاف کھڑے رہنے

والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ جام کمال کے خلاف تحریک لانا چند ٹھیکداروں کی۔ملی بھگت

تھی

اور ضمیر کا سودا لگانے والوں کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی

بقول انکے شیرانی کے جنگلات میں آگ لگی رہی لیکن وزیر اعلی کوئٹہ نہیں آئے

اور خراب نظام حکومت کے باعث یہاں ملازمتیں نیلام ہورہی ہیں

تاہم ٹھیکیداروں کے خلاف چین سے نہیں بیٹھے گے

Comments are closed.