Khabardar E-News

چمن: پاک افغان سرحد دوسرے روز بند ، جنازے روکے ہوے ہیں مشکلات میں اضافہ

7

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

چمن ( نامہ نگار ) بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے قریب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد آج

دوسرے روز بھی بند رہی

جس سے چمن اور اسپن بولدک کے عوام کو آنے جانے مین مشکلات کا سامنا ہے۔ اور پاکستان کی جانب کہی

جنازے روکے ہوے ہیں

گزشتہ روز سرحد پر افغان اور پاکستانی افواج کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان نہین ہوا ہے

اور نہ یی پاکستان کی جانب سے کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

جس کے نتیجے میں چمن اور اسپن بولدک میں سرحد کے دونوں جانب بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

جو دونوں ممالک کے بااختیار حلقوں نے سرحد کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں

سرحد کو کل اس وقت بند کر دیا گیا تھا جب مقامی لیویز کے مطابق افغان طالبان اور پاکستانی سرحدی

محافظوں کے درمیان سرحد پر جھڑپ ہوئی۔

جس سے چمن شر کے مغربی حصے میں واقع گاؤں باچا، گہوری کہول خاص طور پر متاثر ہوا کیونکہ ان

سرحدی دیہات میں لوگ اپنے گھروں تک محدود تھے۔

چمن میں مقامی نامہ نگاروں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے چمن کسٹم اور دیگر سرحدی عمارتوں پر

کچھ گولیاں برسائی گئیں

چمن: پاک افغان سرحد دوسرے روز بند ، جنازے روکے ہوے ہیں مشکلات میں اضافہ

تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی اب تک کسی زخمی کو چمن یاکوئٹہ ہسپتال لایا گیا ہے۔

تاہم واقعے کے فوراً بعد چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد مندوخیل نے ضلعی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی۔

دوسری جانب، اگرچہ ابھی تک حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن کچھ آزاد ذرائع نے کہا کہ

ایسا لگتا ہے جیسے دونوں طرف کے حکام سرحدی مذاکرات کے آغاز کی تیاری کر رہے ہیں۔

ممکن ہے گورنر قندھار کی ایک وفد بھی مذاکرات میں شامل ہو۔

جو آج اسپن بولدک پہنچا ہے

چمن : پاک افغان بارڈر پرکشیدگی اور فائرنگ کے بعد باب دوستی بند

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ چمن کے ایک قبائلی رہنما خان امان اللہ خان اچکزئی کی قیادت میں قبائلی رہنماؤں

نے سرحد کے دونوں جانب تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں

اور بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے ایک آج شام کو ایک اجلاس ہوگا جس میں دونوں ممالک کے

درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جاے گی

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 24 فروری کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر فائرنگ ہوئی تھی

جس کی وجہ سے کچھ لوگ زخمی ہوئے تھے تاہم پاکستان نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد مندوخیل سے بھی متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی

جواب نہیں دیا۔

یاد رہے گزشتہ سال اگست میں جب طالبان نے افغانستان کے اسپن بولڈ ضلع پر قبضہ کیا تھا

تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ سرحد کو 15 دن تک بند کر دیا تھا جس سے نہ صرف عام لوگ متاثر ہوئے

تھے۔

بلکہ قندھار اور ہلمند میں انگور اور انار کے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی بری طرح متاثر ہواتھا

Comments are closed.