Khabardar E-News

کورونا وائرس کا خدشہ: پاک ایران سرحد پر 250 افراد کو قرنطینہ میں رکھ دیا گیا

96

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان نے کورونا وائرس کو  ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ایران سے آنے والے تقریباً 2 سو افراد کو سرحد پر ہی روک لیا اور حکام کی جانب سے تمام افراد کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر پاکستان نے 2 سو افراد کو ایرانی سرحد کے قریب روک لیا ہے۔

ایران میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

پاکستان کی جانب سے ایران سے واپس آنے والے شہریوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا اعلان ایران کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جبکہ افغانستان میں بھی باضابطہ طور پر کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے۔

علاوہ ازیں ایرانی حکام کی جانب سے ملک میں وائرس کے باعث درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی رپورٹس کی تردید کردی گئی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حکام کی جانب سے ایران سے آنے والے کم از کم 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

پاکستان کی ایران سے متصل ’تفتان‘ سرحد کے اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ قمبرانی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم کوئی چانس نہیں لیں گے اس لیے ان تمام افراد کو اگلے 15 دن تک سخت نگہداشت میں ہی رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 250 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری صحت مدثر ملک نے بھی متعدد افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 2 سو سے 250 افراد کو سخت نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صرف رواں مہینے ہی ایران سے 7 ہزار زائرین وطن واپس آئے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان اور پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحدیں جڑی ہوئی ہیں اور ان سرحدوں پر اسمگلرز اور انسانوں کی تجارت کرنے والے افراد کی آمد و رفت بہت زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں آج بھی لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین آباد ہیں جس کی وجہ سے کورونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا یہ پُراسرارکورونا وائرس اب تک 25 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور صرف چین میں اب تک اس سے ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 5 سو سے زائد ہوچکی ہیں۔

Comments are closed.