Khabardar E-News

گلیڈی ایٹرز نے زلمی کیخلاف بال ٹیمپرنگ کی شکایت درج نہیں کرائی: پی سی بی ویب ڈیسک

87

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)  نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے پشاور زلمی کے خلاف میچ میں گیند کی حالت کو تبدیل کرنے(بال ٹیمپرنگ) سے متعلق میچ ریفری روشن ماہناما کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ  دونوں ٹیموں کے درمیان پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) 2020ء کا راؤنڈ میچ 22 فروری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا تھا۔

 میچ کے بعد پریس کانفرنس میں جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد سے سوال کیا گیا کہ کیا گلیڈی ایٹرز نے زلمی کے خلاف بال ٹیمپرنگ کی شکایت کی ہے؟

تو سرفراز نے کہا تھا کہ پروٹوکول کے مطابق اس معاملے پر میچ رپورٹ میں اپنا مشاہدہ درج کردیا ہے تاہم انہوں نے اس معاملے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

 پی ایس ایل 2020ء کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کسی بھی ٹیم کی جانب سے باضابطہ شکایت ٹیم منیجر کی جانب سے درج کروائی جاتی ہے۔

میچ ریفری کو یہ شکایت میچ ختم ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر درج کروانا لازمی ہوتا ہے ‏تاہم پی سی بی کے مطابق اس دوران میچ ریفری روشن ماہناما کو کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور 48 گھنٹے پر مشتمل وقت اب ختم ہوچکا ہے۔

‏چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ گیند کی حالت تبدیل کرنے سے متعلق بیان جاری کرنے سے پہلے نہ تو ٹھوس شواہد فراہم کیے گئے اور نہ ہی اس حوالے سے باضابطہ درخواست جمع کروانے سے متعلق مخصوص طریقہ کار کو اختیار کیا گیا۔

چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ اس کیس میں میچ ریفری کو 24فروری بروز پیر کی شام 6 بجے تک درخواست جمع کروانا لازمی تھا۔

غیرذمہ دارانہ بیان سے ایونٹ کی ساکھ مجروح ہوئی: وسیم خان

 وسیم خان نے کہاکہ مخصوص طریقے کو اختیار کیے بغیر اتنا غیرذمہ دارانہ بیان جاری کرکے ایونٹ کی ساکھ کو مجروح اور غیرملکی کھلاڑیوں کو شکوک و شبہات میں ڈالاگیا۔

 انہوں نے کہا کہ وہ کھلاڑیوں سے احتیاط برتنے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

‏چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ پی ایس ایل 2020ء کے دوران ہمارے پاس امپائرز کا بہترین پینل موجود ہے، جس کی ہر معاملے پر گہری نظر ہے۔

وسیم خان نے کہا کہ اگر امپائر پینل اس حوالے سے گیند میں مصنوعی تبدیلی پائے گا تو وہ یقیناً کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت اس پر کارروائی کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام شرکاء سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کھیل کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے کرکٹ پر توجہ دیں، یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پی ایس ایل کے تمام میچز پاکستان میں ہو رہے ہیں اور ہر کرکٹ شائق کی طرح وہ بھی بہترین معیار کی کرکٹ سے محظوظ ہو کر ان 32 دنوں کو یادگار بنانا چاہتے ہیں۔

Comments are closed.