Khabardar E-News

پشتون تاریخ وثقافت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،اصغراچکزئی

92

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پشتون اپنے شاندار ماضی ، تہذیب و غنی ثقافت کی وجہ سے روز بروز دنیا پر چھا رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ ہماری ثقافت تاریخ اور زبان پر حملے بھی تیز ہو رہے ہیں،پشتون کلچرڈے کی تقریب سے خطاب
دنیا میں قوموں کے درمیان جنگیں ہوتی ہیں فوجیں لڑتی ہیںلوگ مرتے ہیں لیکن پشتونوں پر ایسی جنگ مسلط کی گئی ہے جس میں ہماری تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے زبان پر پابندی لگادی گئی ہے
کوئٹہ( آئی این پی ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پشتون تاریخ تہذیب اپنی خوبصورت اور شاندار تاریخ کی وجہ سے آج دنیا کے مہذب اور تاریخی تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے، پشتوزبان اور تاریخ کے دشمن آج اپنی بالادستی اور پشتون کو غلام کرنے کی خاطر پشتون تاریخ تہذیب ثقافت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پشتون اپنی شاندار ماضی ، تہذیب و غنی ثقافت کی وجہ سے روز بروز دنیا پر چھا رہی ہیں، ایسی خاطر ہمارے ثقافت تاریخ اور زبان پر حملے بھی تیز ہو رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتون کلچر ڈے کے مناسبت سے پامیر انگلش گرائمر سکول میں کلچر ڈے کے منعقدہ پروگرام سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ا سکول پہنچنے پر ا ن کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان پر پھول نچھاور کئے گئے ۔ تقریب سے سکول کے پرنسپل نذر محمد بڑیچ ، تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالبار بڑیچ، حاجی سلیم ناصر، ڈاکٹر طاہر خان بڑیچ ،سردار روح اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں سکول کے بچوں نے پشتون ثقافت کے حوالے سے تقاریر، شعر وشاعری۔ خاکے، ملی اتناور ٹیبلو پیش کئے۔ سکول کی جانب سے مہمانوں میں اصغر خان اچکزئی نے یادگاری شیلڈ دئےے جبکہ سکول کی جانب سے حاجی غلام فاروق مومند نے مہمان خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ نامساعد حالات اور کم وسائل میں اس طرح کے شاندار پروگرام پیش کرنا جس میں تاریخ، تہذیب اور خصوصا ثقافت کو جس طرح سے اجاگر کیا ہے یقینا یہ ہمارے مستقبل کے لئے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ آج ہماری پشتون قوم کی تاریخ وثقافت پر جس طرح سے حملے ہورہے ہیں یہ دنیا کے کسی بھی قوم کے ساتھ نہیں ہوئی۔ دنیا میں قوموں کے درمیان جنگیں ہوتی ہیں فوجیں لڑتی ہیں۔ لوگ مرتے ہیں لیکن پشتونوں پر ایسی جنگ مسلط کی ہیں جس میں تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ زبان پر پابندی لگائی گئی ہیں۔ ثقافت پر یرغال ہیں یہاں تک کہ سکول مدرسہ ، پل، بلڈنگ، سڑکوں کو بھی بموں سے اڑایا جار ہا ہے ۔ ایسے مکار وحشی دشمن کا سامنا ہے جو انتہائی مکار اور عیار ہے جس کا ہمارے سرو مال اوردولت سے صرف سروکار نہیں بلکہ ہماری تاریخ زبان ثقافت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انگریز نے تو ہماری زمین کے وسائل لوٹ رہے تھے لیکن اب موجودہ دشمن سڑک، پل، بلڈنگ تک نہیں چھوڑتے جس کے خلاف ہم سب نے بلا امتیاز کسی بھی پارٹی یا نظرئے سے تعلق ہو بالائے طاق رکھ کر اس قومی دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو اپنی اباو اجداد کی تاریخ غیرت سے اشنا کرنا ہوگا، ہمارے قومی ہیروز صرف ایک شخص یا خاندان کا نام نہیں بلکہ ہر ایک ہیرو کی جدوجہد وتاریخ ایک فلسفہ اور نظریہ ہے۔ جس کی بدولت اج ہم اس سرزمیں پر ایک قوم کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ انہوں کہا کہ آئندہ سال کوئٹہ میں ہزراوں طلباہ و طالبات کے ساتھ ملکر تاریخی کلچر ڈے منایا جاے گا جس میں صوبہ بھر کے سکولوںکے بچوں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنا قومی ثقافتی تاریخ تہذیب سے روشناس ہو جس کے لئے ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے کلچر ڈے میں حصہ لینے والے طلبہ کے لیے نقد انعام کا اعلان بھی کیا۔

Comments are closed.