Khabardar E-News

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا وزیراعظم سے توقعات میں اضافہ

49

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار ڈیسک ) پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے معاملے

کو میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر حل کرنے کے لیے حکام سے بات کریں گے۔

یہ بات انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد 23 اپریل کو بلوچستان کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کوئٹہ میں

ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی ہے جس کا صوبے کے مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے خیر

مقدم کیا ہے

نیشنل پارٹی مرکزی وائس چئیرمین ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے خبردار نیوز سے بات چیت کے دوران کہا کہ

اگرکوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہے توآئین اور قانون کے تحت انہیں 24 گھنٹے کے دوران مجسڑیٹ کے

سامنے پیش کرنا لازمی ہے اور ان کے خلاف جوشواہد ہیں انہیں عدالت میں پیش کیے جائیں

عدالت کے پاس ان کوسزا اور جزا دینے کا اختیار ہے لیکن بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ انسانی حقوق کی

خلاف ورزی ہے جس کے باعث مسائل ہونے کی بجاے مذید خراب ہوتے جارہے ہیں

وائس فار بلوچ میسنگ پرسن کے صدر نصراللہ بلوچ نے بھی لاپتہ افراد کے متعلق وزیر اعظم کے خیالات کی

تعریف کی اور کہا کہ وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں جبری طور پر گمشدگیاں ہوئی ہیں

اور خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ وزیراعظم نے اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے بات کرنے کی یقین دھانی

کرائی ہے جس سے لاپتہ افراد کے لواحقین میں امید کی نہیں لہر پیدا ہوئی ہے

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ گمشدگیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے لیکن بہت سے کیسز

رپورٹ نہیں ہورہے ہیں

بلوچستان میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے 24 اپریل کو بتایا کہ لاپتہ افراد کو

منظرعام پرلانے کے فیصلے کاخیر مقدم کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے

لیے سنجیدہ اقدامات اٹھاے جائیں

جس کے لیے تمام فریقین کو اعتماد میں لینے اور اس پر راہ عامہ بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے

جس کے لیے کانفرنسز اور سمینارز کا انعقاد لازمی ہے صرف ایک بیان دینے سے مسائل حل نہیں ہونگے

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے 915 اافراد کی

مکمل کوائف حکومت کو دہے جا چکے ہیں

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا وزیراعظم سے توقعات میں اضافہ

جس میں 470 بازیاب ہو کر گھر وں کو واپس آچکے ہیں

رپورٹ کے مطابق صوبے میں لاپتہ افراد کا سلسلہ 2000 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں

شروع ہوا تھا جو تاحل نہ تم سکا

اور لاپتہ افراد کی تنظیم نے ہمیشہ اس کی زمہ داری بعض حکومتی اداروں پرعائد کی ہے لیکن حکومتی

اداروں نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے

وزیر اعظم نے گذشتہ روز کہا کہ یہ بات صرف سیاسی رہنما نہیں کرتے ہیں بلکہ وکلاءنے بھی آج اس مسئلے

کو یہاں اٹھایا اورکہا کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے آپ سے بہت توقعات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل تاکید کے ساتھ ساتھ بار بار لاپتہ افراد کے مسئلے کا ذکر کرتے ہیں ۔

وزیر اعظم نے شرکاءکو یقین دلایا کہ میں خلوص دل کے ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ اس مسئلے پر آواز اٹھاﺅں

گا۔

بلوچستان کے وسائل پر پہلاحق صوبے کے عوام کا ہے- وزیراعظم شہباز شریف

’جو لوگ بھی اس حوالے سے بااختیار ہیں ان سے بات کریں گے اور قاعدے، قانون اورمیرٹ کے مطابق

کوشش کریں گے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم یہ مسئلہ انصاف اور قانون کے مطابق حل نہیں کرپاتے تو یقیناً محرومی اور

مایوسی موجود رہے گی باوجودیکہ ہم یہاں دودھ اور شہد کی نہریں کیوں نہ بہادیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں پوری طرح بلوچ اور پشون بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم انصاف کی بنیاد پر اس

مسئلے کو بھرپور انداز سے حل کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

Comments are closed.