Khabardar E-News

ہرنائی: زرغوں غر کوئلہ دھماکہ 48گھنٹے بعد بھی 3 کانکن نہ نکالے جاسکے

16

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہرنائی ( عار ف ترین سے ) کوئٹہ اور ہرنائی کے سرحدی علاقے زرغون غر گھاٹہ کوئلہ کان میں زہریلی

گیس دھماکہ کے باعث کان میں پھنسے 3کانکنوں کو 48گھنٹوں سے زائد وقت گزارنے کے باوجود کان سے

نہیں نکال سکے

ڈپٹی کمشنر ہرنائی سردار محمد رفیق ترین نے زرغون غر گھاٹہ کوئلہ کان میں جاری ریسکیو آپریشن کا جائزہ

لیا

انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو کی چار ٹیمیں ریسکو آپریشن میں مصروف عمل ہیں،

جن میں مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم، پی ڈی ایم اے بلوچستان کی دو ٹیمیں، پی پی ایچ آئی ہرنائی کی ٹیم

ڈی ایس ایم داود کاکڑ کی سربراہی میں، اور لیویز فورس کی ٹیم ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں،

انہوں نے کہا کہ کوئلہ کان کی 1300 فٹ گہرائی ہے، اور کان کی ہوائی نہ ہونے کی وجہ سے ریسکو آپریشن

میں دشواری کا سامنا ہے،

لیکن ریسکیو ٹیمیں اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں

انہوں نےریسکیو ٹیموں کو کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ڈپٹی کمشنر کا متاثرین کو یقین دہانی کی کہ

انتظامیہ اپنی بھرپور کوشش کرے گی اور کسی بھی قسم کی غفلت نہیں ہوگی،

واضع رہے کہ بائیس مارچ کو کوئٹہ اور ضلع ہرنائی کے درمیانی علاقے زرغون غر میں گیس کے باعث ایک

دھماکہ ہواتھا جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت کان میں چھ کانکن کام کررہے تھے

 بعد میں ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی کوششوں کے باعث امدادی ٹیمیں جاے وقوعہ پرپہنچی تھی

اور وہاں سے تین کانکوں کو زخمی حالت میں نکالنے میں کامیاب ہوے تھے

تاہم تین کان کن تاحال کان میں پھنسے ہوے ہیں جن کو نکالنے کے لیے بلوچستان ڈیزاسٹر منیجمنت کی ٹیمیں

جاے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے اور انکی جانب سے امدادی کام کا سلسلہ بدستور جاری ہے

Comments are closed.