Khabardar E-News

بلوچستان کے حقوق کےلئےجان کی بازی لگادوںگا، سردار اخترمینگل

101

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد جاکروزارتوں اوروزیراعلیٰ شپ کےلئےغیرت کاسود انہیں کیا، بلوچستان کے حقوق کا سواد نہیں کیا کسی لاپتہ ماں کے آنسو روکنے اور صوبے کی ترقی اگر سودا ہے تو کرینگے
حکمران عوام کو دست وگریباں کرکے وسائل کو لوٹنا چاہتے ہیں ہر قبائلی تنازعہ کے نشان حکمرانوں کے ایوانوں تک جاتے ہیں قبائل کا کندھا ہر دور میں استعمال کیا گیا،جلسہ عام سے خطاب
کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ نواب امان اللہ زہری کا قتل قبائلی تنازعہ نہیں بلکہ سیاسی قتل تھاگزشتہ حکومت کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد لا یا گیا اور ان کی حکومت ختم کی گئی اور2018میں مفاد پرستوں کو شکست ہوئی جس کا بدلہ نواب امان اللہ زہری سے لیا گیا ہم نے اسلام آبادجاکر وزارتوں اور وزیر اعلیٰ شپ کے عیوض اپنی غیرت کاسودا نہیں کیا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ شپ کیلئے موچے کاٹے گئے بی این پی جدوجہد کا نام ہے اور بی این پی نے بلوچستان کی حقوق اور ساحل وسائل کیلئے ہزاروں کارکنوں اور پارٹی قیادت کو قربان کیا بلوچستان کے حقوق کیلئے جان کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کروں گا بلوچستان کے حقوق کا سواد نہیں کیا کسی لاپتہ ماں کے آنسو روکنے اور صوبے کی ترقی اگر سودا ہے تو کرینگے ہم پر تنقید کرنے والے غیرت اور بے غیرتی کے سودے کا موازنہ کریں فیصلہ عوام نے کرنا ہے کون اچھا فیصلہ کررہا ہے قبائلی لوگ اس سر پر دستار باندھتے ہیں جو انکی عزت کی حفاظت کرسکے جو سردار اپنے عوام کی ناموس کے حفاظت نہ کرسکے اسے سرپرستی کا حق نہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے ہاکی گراؤنڈ میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی،سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ،مرکزی رہنماءحاجی لشکری رئیسانی ،اختر حسین لانگو ،بی ایس او کے چیئر مین نذیر بلوچ نے بھی خطاب کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ آج کے احتجاجی جلسے میں مختلف اضلاع سے پارٹی کارکنوں،عہدیداروں،بلوچ،پشتون ،ہزارہ اور بلوچستان کے عوام نے جس جوش وجذبے کے ساتھ شرکت کی ان سب کو مبارکباد دیتا ہوں شہید نواب امان اللہ زہری اوردیگر شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ہمارا اور امان اللہ زہری کا 30سالہ سیاسی رشتہ تھا بلوچستان میں مختلف قبائل آباد ہیں اور ہرقبیلے کااپنا احترام ہوتا ہے چاہیے وہ قبیلہ کتنا ہی کمزور اور طاقتور نہ ہو ہم ہر قبیلے کا احترام کرتے ہیں طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ بلوچیت کی وجہ سے احترام کرتے ہیں یہ جلسہ قبیلے کے زیلی شاخ کیلئے نہیں منعقد کیاگیا اور نہ ہی کسی قبیلے کے حوالے سے ہوا بھڑکانے کیلئے جلسہ کیاگیا امان اللہ زہری کا قتل کیوں کیا گیا یہ سازش آج کی نہیں بلکہ کہیں سالوں سے چل رہا تھا ایوب خان اور ضیاءالحق سے لیکر مشرف تک حکمرانوں نے بلوچستان کے قبائل کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے دست وگریبان کیا گیا یہ قبائلی قتل نہیں بلکہ سیاسی قتل ہے اور سیاسی قتل کیوں کیا گیا 1988سے لیکر اب تک وہ ہمارے ساتھ تھے جب بھی این پی تقسیم ہوئی اور ان کو لالچ دیکر کہا گیا کہ بی این پی اور اختر مینگل کا ساتھ چھوڑ دے جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے خلاف سازشیں کی گئی مگر نواب امان اللہ زہری آخری دم تک ہمارے ساتھ رہے اور خون کا نذرانہ دیکر یہ ثابت کر دیا کہ وہ نواب نوروز کابیٹا اور بی این پی کا حقیقی معنوں میں اثاثہ تھا ان علاقوں میں جب فرسودہ نظام کابازار گرم رکھا گیا تھا اور نواب امان اللہ زہری شہید نے ان کامقابلہ کیا اور یہ ان لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا تھا جب امان اللہ زہری نے خضدار میں جلسہ منعقد کیا تو ان کودھمکیاں دی گئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قبائل کو آپس میں لڑایا گیا مفاد پرست عناصر نے عوام کو اپنے مفادات کیلئے دست وگریباں کیا دوہزار اٹھارہ میں مفاد پرستوں کو شکست ہوئی جس کا بدلہ امان اللہ سے لیا گیا اور جب وہ وزیرا علیٰ رہے تو انہو ں نے قبائلی تنازعات کو پیدا کرنے کی کوشش کی حکمران عوام کو دست وگریباں کرکے وسائل کو لوٹنا چاہتے ہیں ہر قبائلی تنازعہ کے نشان حکمرانوں کے ایوانوں تک جاتے ہیں قبائل کا کندھا ہر دور میں استعمال کیا گیا بلوچستان کے لوگوں میں مایوسی پیدا کرنے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے جموری سیاست سے ہر دور میں دور رکھنے کی کوشش کی گئی بلوچستان میں ہانچ آپریشن ہوئے لیکن عوامی حقوق کی تحریک ختم نہیں ہوئی بی این پی کو حکومت ملی تو ماضی میں پارٹی توڑ دی گئی بی این پی کی اصولی سیاست تحریک اور نظریہ کا نام ہے بلوچستان نیشنل پارٹی تمام بلوچستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے دو ہزار دو سے اب تک پارٹی کارکن شہید ہوئے بازو کاٹ دئے گئے لیکن بلوچستان کے حقوقِ کا نعرہ بلند کرتے رہے گے اپنے کاروان کے ہر کارکن کے حق کا تحفظ کروں گا بلوچستان کے حقوق کیلئے جان کی بازی لگانے سے دریخ نہیں کروں گا بلوچستان کے حقوق کا سواد نہیں کیا کسی لاپتہ ماں کے آنسو روکنے اور صوبے کی ترقی اگر سودا ہے تو کرینگے ان سے پوچھا جائے جنوں کے وزارت اعلی کے عوض سودے بازی کی ہم پر تنقید کرنے والے غیرت اور بے غیرتی کے سودے کا موازنہ کریں فیصلہ عوام نے کرنا ہے کون اچھا فیصلہ کررہا ہے قبائلی لوگ اس سر پر دستار باندھتے ہیں جو انکی عزت کی حفاظت کرسکے جو سردار اپنے عوام کی ناموس کے حفاظت نہ کرسکے اسے سرپرستی کا حق نہیں لاپتہ افراد کی بازیابی ۔افغان مہاجرین کی واپسی سمیت چھ نکات رکھے ایک سال میں چار سو سے زیادہ لاپتہ افراد اپنی گھروں کو واپس لائے لاپتہ افراد کی بازیاب سے دستبردار ہوتا جو وزارت اعلی مل سکتی تھی دنیا کا امیر ترین خطہ کے عوام غربت کی انتہا میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں کے لوگ صحت اور تعلیم کی کوئی سہولت نہیں مل رہی نوکریاں آلو انڈے کی طرح بک رہی ہیں بلوچستان میں عام آدمی کی بات کرنے والےکو کھبی اقتدار نہیں دیا گیا بلوچستان کے مفاد کو سامنے رکھی کر فیصلے کئے مرکزی حکومت چھ نکات تسلیم نہیں کرتی تو صاف بتادے واضع طور ہر کہتے ہیں کہ ساڈا حق اے رکھ عوام کو روز گار اور ماں بہنوں کو عزت چاہیے

Comments are closed.