Khabardar E-News

بلوچستان کی خونی شاہرائیں اور ہماری جانیں

13

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ اور تفتان کے درمیان ہمسائیہ ملک ایران کو ملانے والی بین القوامی شاہراہ پرجمعہ کو اسماعیلی لانڈھی

کے قریب ٹریفک حادثے میں چار افراد جان بحق ایک زخمی ہوا

حادثہ ایران سے آنے والے ٹرالر اور ڈاٹسن پک آپ کے درمیاں اس وقت پیش آیا

جب ایک پک اپ نوکنڈی کی جانب جارہی تھی کہ مخالف سمیت سے آنے والے ٹرالر نے ٹکرمار دی

کہی گھنٹوں کی جد وجہد کے بعد گاڑی میں موجود افراد کی لاشیں نکا ل کرمقامی ہسپتال پہنچائی گئی جہاں

اسپتال ذرائع کے مطابق جان بحق افراد میں دو خواتین ایک مرد اور ایک سات سالہ بچہ بھی شامل ہے

واقعہ پک اپ اور ٹرالر کے مابین تصادم کی وجہ سے پیش آیا

پک اپ ٹرالر کے نیچے أکر دب کر پھنس چکاتھا

جان بحق افراد پک اپ میں پھنس چکے تھے جان بحق افراد کو کرین اور مشینری کے ذریعے نکالے گئے

واقعہ کے بعد لیویز کی بھاری نفری جاے وقوعہ پر پہنچ گئ اور مقدمہ درج کرکے واقعہ کی تفتیش شروع

کردی ہے

اسسٹنٹ کمشنر چاغی کے مطابق ڈاٹسن میں ایک ہی خاندان کے لوگ تھی جو کسی تقریب میں شرکت کے لیے

جارہے تھے کہ راستے میں اسماعیلی لانڈھی کے مقام پر یہ حادثہ پیش آیا

جس کے باعث چار خواتین اور بچےسمیت چار افراد جان بحق اور ایک زخمی ہوا ہے

جہاں ڈاکٹروں نے زخمی کی حالت بھی تشویشناک بتائی ہے

22جنوری کو منگوچر کے قریب دوسرا خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں کوچ ور کار کی تصادم ہوئی

جس سے گاڑی میں سوار دو خواتین دو بچوں سمیت پانچ افراد جان بحق حادثہ پھسلن کی وجہ سے پیش آیا

بدرنگ ڈویژنل کمپلیکس ایریا میں کوچ اور ٹوڈی کار کے تصادم میں مرنے والے تمام افراد ایک ہی خاندان

کے تھے

لیویز ذرائع کے مطابق منگوچر کے بدرنگ ایریا ڈویژنل کمپلیکس کے قریب کوچ اور کار میں تصادم جس کے

باعث کار میں سوار سید فرید اللہ ولد سید عبدالواسع قوم سید کلی شیغری تحصیل حرمزئی پشین اور اس کے

ساتھ سوار دو خواتین اور دوبچے موقع پر جان بحق ہوگئے

کوچ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگئے انتظامیہ نے نعشیں ہسپتال منتقل کردیے جہاں ضروری قانونی کاروائی کے

بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئ ہیں

بلوچستان کی خونی شاہرائیں اور ہماری جانیں

بدقسمتی سے بلوچستان کے ان قومی شاہراہوں آے روز سڑ ک حادثات معمول بن چکے ہیں جس میں اب تک

ہزاروں افراد نہ صرف اپنے جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو

ہمیشہ کے لیے معذور ہو کر اپنے گھر اور خاند ان والوں پر بوجھ بن چکے ہیں

بلوچستان کے عوام اور سیاسی رئنماوں کی جانب سے ہمیشہ یہ مطالبہ ر ہا ہے

کہ صوبے سے گذرنے والی  ان قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں کو دورویہ کیاجاے

تاکہ حادثات کی صورت میں انسانی جانوں کا ضیا روکنے

کے ساتھ ہی لوگ ایک جگہ سے دوسرے جگہ تک بلا خوف وخطر سفر کرسکیں

اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے گذشتہ سال کے بجٹ میں ایک خطیر رقم کوکوئٹہ تا کراچی

شاہراہ کو دورویہ کرنے کے لیے مختص کی گئی لیکن اس منصوبے پر تاحال باقاعدہ طور پرکام شروع نہیں

ہوسکا اسی طرح کوئٹہ تاژوب قومی شاہراہ کو دورویہ کرنے کا کام سست روی کا شکار ہے

اس کے علاوہ ان قومی شاہراہوں پر حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹرَئفک قوانین سے بے خبری بھی ہے کیونکہ

زیادہ تر حادثات ٹرئفک قوانین پر عمل نہ کرنے سے پیش آتے ہیں

اس کی ایک بڑی مثال کوئٹہ شہر کی ہے

جہاں لوگ موٹرسائیکل کی سواری تو کرتے ہیں مگر وہ ہلمٹ پہنے سے گریزکرتے ہیں

اس پر گذشتہ سال ٹرئفک پولیس کی جانب سے سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ ہواتھا اور چند دنوں ٹرئفک

پولیس اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں نے موٹرسائیکل سواروں کو ہلمٹ پہنے پر مجبور بھی کیا اور

خلاف ورزی کرنے والوں سے بھاری جرمانے بھی وصول کیے

مگر ہر منصوبے کی طرح یہ فیصلہ بھی بعد میں ناکامی سے دوچار ہوا – ایسی صورتحال میں حکومت اور

قانون نافذکرنے والے اداروں کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ شاہراہوں کو دو رویہ کرنے کے ساتھ ٹرئفک قوانین

پرعملدرآمد کرانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائیں تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانیں  کے ضیا کو روکا جاسکے

1 Comment
  1. […] ( نامہ نگار ) بلوچستان کے ضلع بولان میں واقع  بھاگ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی […]

Comments are closed.