Khabardar E-News

مارچ23ہماری قومی تاریخ کاسنگ ِ میل اور تجدید عہد کا دن

13

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: سینیٹر ثمینہ ممتاز ہری

 مارچ23 کا دن اس عہد کے تجدید کا دن ہے جس میں برصغیر میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے قیام

کے لئے قرارداد منظور کی گئی

اور1940 ء آج کے دن دو قومی نظریے پر قیام پاکستان کی بنیاد رکھی گئی

اور مسلمانا نِ ہند نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرک قیادت میں ایک پر امن جدوجہد کے ذریعے

اگست1947,14, کو علامہ محمد اقبالؒ کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی قوم اس انقلابی قرارداد کی روح کا ادراک کرے اور

روایتی قسم کے تجدید عہد سے آگے نکل کر اس قرارداد کے مطابق پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی تکمیل

کیلئے سرگرم ہوجائے۔

اس مملکت ِ خداداد کوحقیقی معنوں میں قائد اور اقبال کا پاکستان بنانے کی خاطر ہمیں انفرادی اور اجتماعی

سطح پر اسی جہد مسلسل‘ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

جو قائداعظم محمد علی جناح ؒکے تربیت یافتہ سپاہیوں کا خاصہ تھا۔23 مارچ 1940 ء کے دن اس تاریخ ساز اجتماع میں بابائے قوم نے باور کرا دیا تھا

کہ ”حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے”قومی تصور“ اور ہندو دمذہب کے سماجی طور طریقوں کے باہمی اختلاف کو

محض و ہم و گمان بتانا ہندوستان کی تاریخ کو جھٹلانا ہے۔

مارچ23ہماری قومی تاریخ کاسنگ ِ میل اور تجدید عہد کا دن

ایک ہزار سال سے ہندوؤں اور مسلمانوں کی تہذیبیں ایک دوسرے سے دو چار ہیں اور دونوں قومیں آپس میں

میل جول رکھتی چلی آئی ہیں مگر ان کے اختلافات اْسی پرانی شدت سے موجود ہیں۔

ان کے متعلق یہ توقع رکھنا کہ ان میں محض اس وجہ سے انقلاب آئے گا اور ہندو اور مسلمان ایک قومِ بن

جائیں گے کہ ان پر ایک جمہوری آئین کا دبا ؤ ڈالا جائے‘ سراسر غلط ہے۔

جب ہندوستان میں ڈیڑھ سو سال سے قائم شدہ برطانوی حکومت اپنے کام میں کامیاب نہ ہو سکی تو یہ کس

طرح ممکن ہے

کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت میں فیڈرل نظام کے جبری قیام سے وہ کامیابی حاصل ہوجائے گی۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ باور کرایا کہ ہندوستان کا سیاسی مسئلہ فرقوں سے متعلق نہیں بلکہ قوموں

سے متعلق ہے۔

بلاشبہ اسے ایک بین الاقوامی مسئلہ قرار دینا چاہیے اور اسی نکتہ ء نگاہ سے اس کا حل تلا ش کرنا لازم ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بنیادی امر واقعہ کی صحت تسلیم کریں۔

جب تک ہم اسے درست نہ مانیں گے‘ہمارا وضع کردہ آئین ناکام رہے گا اور تباہی لائے گا۔

اسلام اور ہندومذہب محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ درحقیقت وہ دو مختلف معاشرتی نظام ہیں۔

چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال ہی کہناچاہیے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق

کرسکیں گے۔“

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کی جن

غرافیائی حدود کا تعین کیا‘ بالآخر انہی علاقوں پر مشتمل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

انگریزوں اور ہندوؤں نے جب قیام پاکستان پر مہر ثبت ہوتے دیکھی تو باہمی گٹھ جوڑ سے پنجاب کے متعدد

مسلم اکثریتی اضلاع کو انتہائی نامنصفانہ ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت بھارت میں شامل کر دیا

اور بنگال کو بھی تقسیم کر کے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے الفاظ میں ایک کٹے پھٹے پاکستان کے قیام کو

یقینی بنایا۔

اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ درحقیقت 1857ء کی جنگ ِ آزادی میں

ناکامی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو کثیر الجہتی زوال کا سامنا تھا۔

اس دوران مسلمان زعماء نے متعدد کوششیں کیں کہ اس زوال کے آگے بند باندھا جا سکے اور منتشر مسلمانوں

کو منظم کیا جا سکے

مگر سوفیصد مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے حتیٰ کہ 23مارچ1940ء کو وہ دن آن پہنچا۔

اس دن قراردادِ لاہور کی منظوری کے طفیل انگریز حکومت کے جبر اور ہندو اکثریت کے تعصب تلے سسکتی

مسلمان قوم کو حیاتِ نو نصیب ہو گئی۔

اسے اپنے حقِ خود ارادیت کا شعور حاصل ہوانیز جدوجہد آزادی کی سمت اور منزل کا تعین ہوا۔

اس عظیم الشان جدوجہد کا مقصد ایک ایسی جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی مملکت کا قیام تھاجسے دو

رِحاضر میں دین اسلام مضبوط قلعہ کا مقام حاصل ہو۔

جہاں کے سیاسی‘اقتصادی اور معاشرتی نظام کو دین اسلام کے زرّیں اصولوں پر استوار کر کے اقوامِ عالم پر

یہ ثابت کیا جا سکے

کہ یہ سنہری اصول آج کے دور میں بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جس طرح حضور اقدس حضرت محمد

مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ کرام اور خلفائے راشدین کے مبارک زمانے میں تھے۔

تاہم قیام پاکستان کے تھوڑے ہی عرصہ بعد بابائے قوم رحلت فرما گئے اور چند سالوں بعد ان کے دست راست

قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان بھی شہید کر دیے گئے۔

پاکستانی قوم کے ان محبوب رہنما ؤں کے دنیا سے کوچ کر جانے کے بعدملک نے بہت سے نشیب و فراز

دیکھے۔

گزشتہ تین چار دہائیوں میں پاکستان پر سخت مشکلات آئیں جن میں افغانستان اور سوویت یونین کی جنگ کے

بعد پاکستان کونہایت سخت حالات سے گزرنا پڑا

جبکہ 9/11 کے بعد پاکستان نے مسلمان ملک ہونے کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔

مغربی دنیا نے مسلمانوں پر ناکردہ گناہ کا بوجھ ڈال دیا اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کو

دہشت گرد اور شدت پسند ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا

لیکن پاکستان نے ہمیشہ ایک امن پسند ملک ہونے کا ثبوت دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن

پر لڑتے ہوئے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا پر ثابت کیا

کہ مسلمان دہشت گرد نہیں اور دین ِ اسلام میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی جنگ تن تنہا لڑی اور دہشت گردی جیسے ناسور کو شکست فاش

دے کر مادر وطن میں امن وامان بحال کیا جس کے لئے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان لائق تحسین ہے۔

لیکن دشمنوں کو یہ امن اور پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور دشمن عناصر پاکستان میں امن اور

ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے چند ناعاقبت اندیشوں کا سہارا لے کر پاکستان میں نہتے اور

سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں

اور مختلف طریقوں سے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش میں مصروف رہتے ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ

پاکستانی قوم نے اپنی بہادر افواج پاکستان کے ساتھ مل کر ہمیشہ وطن کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا

اور دشمن عناصر کو ان کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیااور آئندہ بھی پاکستان کے دشمنوں

کے مذموم عزام کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔

دو ہزاربائیس کا 23 مارچ بھولے ہوئے سبق یاد دلانے کا دن ہے۔ ہر 23 مارچ یاد دلاتا ہے

کہ ہم منزل سے ہٹ چکے ہیں، بھٹک چکے ہیں، وعدے بھلا چکے ہیں،

آج ہمیں ماضی سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے، ہمیں ایک قوم بننے کی ضرورت ہے، ہمیں ملک کی بہتری

کے لیے اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے،

ملکی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے، انصاف کی ضرورت ہے،

آئین و قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔ہمیں ملکی سلامتی اور حفاظت کے لئے افواج پاکستان کے ساتھ

کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

23 مارچ انیس سو چالیس کو مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے، مختلف

عقیدے سے جڑے، مختلف حیثیتوں والے، مختلف رنگ و نسل، مختلف برداری کے لوگوں کو ایک متحد قوم

میں بدل دیا تھا۔

آج ہم ایک ملک کے شہری ہونے کے باوجود علاقوں میں تقسیم ہیں، ہمیں اپنی برادری اپنے شہر سے پیار ہے،

ہمیں اپنی زبان قومی زبان سے ذیادہ عزیز ہے، ہمیں ذاتی کاروبار ریاست کے اداروں سے زیادہ عزیز ہیں۔

آج ہمیں انیس سو چالیس کے جوش و جذبے، اسی جوش و خروش، اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔

اس وقت صرف ہندو ہمارا دشمن تھا آج اسلام کے سب دشمن پاکستان کے خلاف متحد ہیں۔

ہم دشمنوں کا مقابلہ اتحاد، انصاف اور پاکستانیت کی سوچ اپنانے سے ہی کر سکتے ہیں۔

ہمیں اندرونی طور پر تحمل مزاجی اور برداشت جب کہ دشمنوں کے معاملے میں سفاک ہونے کی ضرورت

ہے۔

ہم نے گذشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے اسی ہزار سے زائد قیمتی جانوں

کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

اس امن کو قائم رکھنے کے لیے، اس ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہم نے بیرونی دشمنوں کے ساتھ

اندرونی دشمنوں کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔

اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ صرف اور صرف اتحاد سے ہی ممکن ہے۔

ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ جتنا ہم تقسیم ہوں گے ترقی کا سفر اتنا ہی مشکل ہو گا،

جتنا ہم باہمی اختلافات کا شکار ہوں گے مسائل حل کرنے میں اتنی زیادہ رکاوٹیں آئیں گی۔

ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی قوم اس انقلابی قرارداد کی روح کا ادراک کرے

اور روایتی قسم کے تجدید عہد سے آگے نکل کر اس قرارداد کے مطابق پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی

تکمیل کیلئے سرگرم ہوجائے۔

اس مملکت ِ خداداد کوحقیقی معنوں میں قائد اور اقبال کا پاکستان بنانے کی خاطر ہمیں انفرادی اور اجتماعی

سطح پر اسی جہد مسلسل‘ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

جو قائداعظم محمدعلی جناح ؒ اور آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے ان کے ساتھیوں اور قائد کی آواز پر

لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک حاصل کرنے والے

بوڑھے، خواتین، بچوں اور جوانوں کا خاصہ تھا۔

Comments are closed.