Khabardar E-News

بلوچستان ہم سب کا گھر ہے اور اس کی تعمیر و ترقی ہم سب کی ذمہ داری بھی ہے ‘ جام کما ل

70

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 کوئٹہ :وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ موجودہ دو رمیں صنعتکاری کے شعبہ میں انقلابی ترقی کے باوجود بلوچستان کے لوگوں کی معیشت زراعت اور مالداری سے وابستہ ہے، یہ دونوں شعبے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں، صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ سے زراعت اور مالداری کے شعبے ترقی کریں گے جس کا فائدہ ان شعبوں سے منسلک افراد کو پہنچے گا، اس کے باوجود کہ صوبے کی اسی فیصد آبادی کا روزگار انہی دو شعبوں پر انحصار کرتا ہے،ماضی میں ان دونوں شعبوں کو نظر انداز کیا گیا جس کاازالہ موجودہ حکومت کررہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاریخی سبی میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کے مہمان خصوصی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی تھے، وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان بنیادی طور پر ایک زرعی علاقہ ہے اور مالداری اور زراعت صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سبی میلے میں ان دونوں شعبوں کی خصوصی نمائندگی ہوتی ہے، وزیراعلی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے وسائل کی ترقی اور انہیں ملک اور صوبے کے معاشی و اقتصادی استحکام کے لئے بروئے کار لانے کی ایک واضع پالیسی پر عمل پیرا ہے اور رواں مالی سال کے صوبائی بجٹ میں خاص طور سے زراعت اور مالداری کے شعبوں کی ترقی کے منصوبوں کے لئے خطیر فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کے لئے زمینداروں اور کاشتکاروں کے لئے گرین ٹریکٹر پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہزار ٹریکٹر دیئے جائیں گے، آن فارم واٹر مینجمنٹ پروجیکٹ کے ذریعہ واٹر چینلز، واٹر سٹوریج ٹینکس، اور آبپاشی کے جدید طریقوں کو متعارف کرانے کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔وزیراعلی نے کہاکہ بلوچستان لائیو اسٹاک کے شعبہ میں ترقی کی بے پناہ گنجائش رکھتا ہے اور حکومت اس شعبہ کی ترقی کو بھی خصوصی اہمیت دے رہی ہے جس سے چھوٹے پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، صوبائی سطح پر لائیو اسٹاک پالیسی متعارف کرائی گئی ہے جبکہ صوبے کی چراہ گاہوں کی ترقی کے منصوبے بھی شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی پہلی بلوچستان لائیو اسٹاک ایکسپو 2019 کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی صدر محترم تھے۔وزیراعلی نے کہا کہ سبی میلہ حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ مالداروں او ر زمینداروں کے لیے نئے تجربات سے استفادہ کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان ایک وسیع وعریض صوبہ ہے جہاں دورویہ قومی شاہراہوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان نے سی پیک کے ویسٹرن روٹ ژوب تاکوئٹہ دورویہ شاہراہ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے جبکہ چمن تا کراچی شاہراہ کو دورویہ کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور فزیبیلیٹی رپورٹ پر کام جاری ہے، وزیراعلی نے صدرمملکت سے جعفرآباد، ڈیرہ مراد جمالی، سبی کوئٹہ شاہراہ کو دورویہ بنانے کی درخواست کی اور توقع ظاہر کی کہ صدر مملکت آئندہ مالی سال کی وفاقی پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کو شامل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے، اس شاہراہ کی تعمیر سے علاقے میں اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ مالداری ہو یا زراعت، دیہی ترقی ہو یا جدید شہری ترقی ان سب کیلئے پرامن ماحول کا ہونا ضروری ہے، امن اور ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہماری حکومت صوبہ میں امن کے قیام کو دیگر تمام باتوں پر ترجیح دیتی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ہم صوبے کے وسائل کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے بھی کوشاں ہیں کہ ترقی کے عمل سے بلوچستان کے عوام بھرپور استفادہ کرسکیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری بلوچستان اور پاکستان کی معیشت میں مثبت تبدیلی کا منصوبہ ہے جس سے پورے خطہ کی تقدیر بد ل جائے گی۔انہوں نے کہا ہمیں مکمل اتحاد و اتفاق کے ساتھ صرف اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اور بلوچستان کے عوام کو زیاد ہ سے زیادہ مستفید کرسکیں۔وزیراعلی نے کہا کہ ہم نے بلوچستان سے ہر قسم کی دہشتگردی ختم کر کے اسے ایک بار پھر سے امن، بھائی چارہ اور رواداری کا گہوارہ بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے، امن اور ترقی ہمارے مشترکہ مقاصد ہیں۔ بلوچستان ہم سب کا گھر ہے اور اس کی تعمیر و ترقی ہم سب کی ذمہ داری بھی ہے۔وزیراعلی نے سبی میلے کے شاندارانعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اورمیلے کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔

Comments are closed.