Khabardar E-News

بلوچستان اسمبلی میں گیس اوربجلی کے بحران پردھواں دھار بحث

122

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہےجس کی وجہ سے صوبے بھر کے عوام شدید مشکلات کاشکار ہوگئے ہیں،اراکین اسمبلی
حکومت وفاق سے صوبے سے متعلق ہونے والے اقدامات میں مسلسل ہمیں نظر انداز کررہی ہے،بیوروکریسی بھی غیر سنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے ،
ملک میں توانائی بحران کا خاتمہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ،ارکان اسمبلی کا ااجلاس میںاظہار خیال
کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 25منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں جمعیت العلماءاسلام کے رکن سید فضل آغا نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں گیس پریشر کی کمی کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک جانب وفاقی حکومت ہمیں نوید سنارہی ہے کہ ملک میں توانائی بحران کا خاتمہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے جس سے شہری اذیت میںمبتلا ہیں ۔انہوںنے کہا کہ بلوچستان حکومت اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہم نے بارہا حکومت کو دعوت دی کہ بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی میں اپوزیشن حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتی ہے لیکن حکومت وفاق سے صوبے سے متعلق ہونے والے اقدامات میں مسلسل ہمیں نظر انداز کررہی ہے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے اسمبلی کے باہر نصیر آباد اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے زمینداروں اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے جاری احتجاج کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد میں گزشتہ ستر سالوںسے آباد کاشتکاروں اور زمینداروں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں وہ اس وقت بلوچستان اسمبلی کے باہر انصاف کے لئے آئے ہیں اور احتجاج کررہے ہیں ان سے بات چیت کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے ۔جس پر ڈپٹی سپیکر نے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی ، مشیر لائیوسٹاک مٹھاخان کاکڑ، جمعیت علماءاسلام کے اصغرترین اور ملک نصیر شاہوانی پر مشتمل کمےٹی کو مظاہرین کے پاس جاکر بات کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سوالات کے جواب موصول نہ ہونے پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے کہا کہ یہ سوال چھ سے سات مرتبہ پہلے بھی ٹیبل ہوچکا ہے جس کا جواب موصول نہیں ہورہا بیوروکریسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ۔ صوبائی وزیر سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ محکمہ بلدیات سے متعلق سوال کا غیر تسلی بخش جواب آنے پر میں نے چار چیف آفیسرز کو عہدوں سے ہٹادیا اور پندرہ آفیسرز کو نوٹسز بھی جاری کئے گئے ہیں 8ڈویلپمنٹ آفیسرز کو معطل کردیاگیا ہے انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ تسلی بخش جواب موصول ہوتے ہی ایوان میں جمع کراؤں گا۔جمعیت علماءاسلام کے سید فضل آغا نے وزیر بلدیات کے اقدام کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ باقی وزراءبھی وزیر بلدیات کی تقلید کریں گے ۔اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے اپنی توجہ دلاؤنوٹس سے متعلق سوالات دریافت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیایہ درست ہے کہ پی بی31کے بی ایچ یوز کی خالی آسامیوں پر تعیناتی عمل میں لائی گئی ہیں اگر تعیناتیاں کرلی گئی ہیں تو بتایا جائے کہ اشتہارکن اخبارات میں مشتہر کئے گئے اور کن لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے ان کے نام اور ولدیت سمیت دیگر کوائف سے آگاہ کیا جائے جس پر وزیر صحت میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ محکمے نے تعیناتیاں نہیں کیں اگر رکن کے پاس اس بارے میں معلومات اور شواہد ہیں تو ہمیں آگاہ کریں ہم تعیناتیوں کو منسوخ کردیں گے ۔ اجلاس میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادرعلی نائل نے گیس پریشر سے متعلق تحریک التواءپیش کرتے ہوئے کہا کہ سردی شروع ہوتے ہی کوئٹہ شہر و گردونواح بالخصوص حلقہ پی بی 26میں شامل ہزارہ ٹاؤن ، پشتون باغ ، بروری روڈ ، کرانی اور اسی طرح حلقہ پی بی27میں شامل علمدار روڈ ، پشتون آباد ، ناصر آباد ، مومن آباد ، سیٹلائٹ ٹاؤن ، لیاقت بازار اور کواری روڈ وغیرہ کے علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید سردی میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے اس لئے ایوان کی کارروائی روک کراس اہم اور عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لایا جائے تحریک التواءکو اراکین کی مشاورت سے بحث کے لئے منظور کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے اس پر اگلے اجلاس میں عام بحث کی رولنگ دی ۔اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن و پارلیمانی سیکرٹری ماہ جبین شیران نے وزیراعلیٰ بلوچستان و صوبائی وزراءکے ( مشاہرات، مواجبات و استحقاقات) کا ترمیمی مسودہ قانون مصدرہ2019ء(مسودہ قانون نمبر20) ایوان میں پیش کیا جسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیاگیا

Comments are closed.