Khabardar E-News

بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ ،پر پابندی عائد، شاپنگ مالزکو بند کر نے کا

206

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان میںکورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 23 ہوگئی ،بلوچستان میں 1ارب روپے سے انسداد کورونا وائرس فنڈ قائم کردیا گیا ہےبلوچستان میں 1ارب روپے سے انسداد کورونا وائرس فنڈ قائم کردیا گیا ہے ،صوبائی وزرائ،اراکین اسمبلی اور سرکاری ملازمین بھی فنڈ میں اپنی تنخواہ کی شرح دیں گے ، بلوچستان میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 23 ہوگئی ہے ، بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین اور افراد کو تفتان سے انکے صوبوں کی طرف روانہ کردیا گیا ہے ،صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ ،بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی ہے ، کوئٹہ کے رش والے شاپنگ مالزکو بند کردیا گیا ہے جبکہ ریسٹورنٹس صرف ٹیک اوے کی سہولت کے لئے کھلے رہیں گے۔یہ بات انہوں نے بدھ کی شب سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہوراحمد بلیدی، حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی ،وزیراعلیٰ کے لائزن اسسٹنٹ میر عمیر محمدحسنی اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تفتان میں اور کوئٹہ میں پی سی ایس آئی کے دفتر میں پری فیب قرنطینہ قائم کئے جائیں گے جبکہ ایف ڈبلیو او کے ذریعے 50ایکڑ پر ہیلتھ سٹی قائم کریں گے تاکہ آئندہ بھی ہمارے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک مقام مختص ہوگا، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے بڑے شاپنگ مالزبند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کوئٹہ میں ریسٹورنٹس میں بیٹھنے پر پابندی ہوگی البتہ ٹیک اوے کی سہولت کے لئے ریسٹورنٹس کھلے رہیں گے 10لوگوں سے زائد کے ہجوم پر پابند ی عائد کردی گئی ہے ،انہوںنے کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پابند ی عائد کردی گئی ہے جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے البتہ ٹرین اور ہوائی جہاز کے ذریعے سفر پر پابند ی وفاقی حکومت کا اختیار ہے وہ جوفیصلہ کریگی صوبائی حکومت اس پر عملد آمد کریگی امید ہے ٹرانسپورٹر وسیع تر عوامی مفاد میں حکومت کا ساتھ دیں گے ،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے ایک ارب روپے کی رقم سے انسداد کورونا فنڈ قائم کردیا ہے وزرائ، ارکان اسمبلی، سرکاری ملازمین بھی اپنی تنخواہ کا مخصوص حصہ اس فنڈ میں جمع کروائیں گے اس فنڈ سے آلات اور ضروریات پوری کی جا سکیں گی جبکہ صاحب حیثت لوگ بھی اس فنڈ میں عطیات جمع کروائیں ،انہوں نے کہا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ہسپتالوں کی او پی ڈی میں رش کو کم کیاجائے تاکہ کوئی بھی متاثرہ شخص دوسروں کو وائرس منتقل نہ کر سکے ،اس حوالے سے محکمہ صحت کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ مختلف اضلاع میں ڈی ایچ کیو اور بی ایچ کیو کو مزید بہترکریں تاکہ ہسپتالوں میں رش کم کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت کورونا وائرس کے 23کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے ہماری کوشش ہے کہ اس نمبر کو مزید نہ بڑھنے دیں ،ایران میں موجود زائرین اور شہریوں کی اصل تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا گزشتہ دنوں 4500زائرین کو انکے صوبوں میں بھیجا ہے جبکہ بدھ کو بھی 2700زائرین میں سے بلوچستان کے 400کے علاوہ دیگر کو انکے صوبوں کو روانہ کردیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تفتان میں بہت زیادہ سہولیات نہیں ہیں اس لئے دیگر صوبوں کے حوالے کریں گے تاکہ وہ خود انکے ٹیسٹ کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ پی سی ایس آئی آر میں 500سے زائد زائرین کے ٹیسٹ کر لئے گئے ہیں ان میں سے55افراد کی رپورٹ منفی آئی ہے ان کے ساتھ ساتھ دیگر لوگ جن میں کورونا کی تشخص نہیں ہوگی انہیں گھر جانے دیا جائیگا جن لوگوں کی رپورٹ مثبت آئے گی انہیں ہسپتالوں میں منتقل کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایک پیچیدہ معاملہ ہے اس کے ٹیسٹ اسکی علامات بعض اوقات ایک ماہ تک بھی سامنے نہیں آتیں سندھ بھیجے گئے افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کا قصور ہمارا نہیں ہے بلوچستان جتنا کر سکتا تھا اس سے بڑھ کراقدامات کئے ہیںجس پر سیاسی حکومت اور افسران کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہوں نے تفتان میں موجود افراد کو ہر قسم کی سہولیات مہیا کی ہیں ،انہوں نے کہا کہ لوگوں نے تعاون نہیں کیا ہم نے انہیں کہاتھا کہ ایک ٹینٹ میں ایک سے زائد لوگ نہ رہیں لیکن انہوں نے عمل نہیں کیا ،انہوں نے کہ وزیراعظم خود بھی بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں وفاقی حکومت کا صوبے کو تعاون حاصل ہے جبکہ بلوچستان کے اقدامات کو سراہا بھی گیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے فیصلہ کیا ہے کہ جتنے بھی ڈاکٹر کنٹریکٹ پر کام کررہے تھے انکا کنٹریکٹ بحال کردیا گیا ہے اگر ڈاکٹر قومی ایمرجنسی میں کام نہیں کرتے تو یہ افسوسناک بات ہوگی امید ہے وہ مستقل بھی ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لئے تمام کمشنرز اور محکمہ انڈسٹریز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ اشیاء خورودنوش کی دستیابی کو یقینی بنائے گا جبکہ حکومت آٹے اور گندم کی وافرمقداد میں خریداری بھی کر رہی ہے اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے کو ہدایت کردی گئی ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے راشن بیگز کی تیاری کی جائے لوگ گھبرائیں نہیں بلکہ عام صورتحال کی طرح چلیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے چیف سیکرٹری آفس میں سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کی سربراہی میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے ہے کورونا وائرس کے حوالے سے تمام فیصلے اور معلومات وزیراعلیٰ جام کمال خان کی منظور ی کے بعد اسی کنڑول روم سے جاری ہونگے ہرمحکمے کو اسکی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں ،انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کی صورتحال کے حوالے سے وزیرخزانہ ، وزیر زراعت سمیت تمام اہم افسران پر مشتمل کور کمیٹی بنا دی گئی ہے کمیٹی ہر ایک دن کے بعد کورونا وائرس کی صورتحال غور کر تے ہوئے جائزہ لیکر فیصلے کریگی جبکہ اہم فیصلے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم ایپکس کمیٹی میں کئے جائیں گے ، عوام کو گھبرانے کی نہیں بلکہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے صفائی کا خیال رکھیںایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ چمن میں ڈی ایچ کیو کی نئی عمارت میں 19کمروں پر مشتمل قرنطینہ اور آئی سولیشن کی سہولت قائم کردی گئی ہے جسکا آج دورہ کیا چمن میں کچھ کمیاں ہیں لیکن انہیں جلد پورا کرلیا جائیگا حکومت نے پہلے ایران پر توجہ دی ہے کیونکہ وہاں وائرس کا پھیلائو اور زائرین کی تعداد زیادہ تھی پہلے ایران کی صورتحال پر قابو پایا ،انہوں نے کہا کہاافغانستان میں بھی کوروناوائرس پھیلا ہے او روہاں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بارڈر کو بند کردیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں یہ وائرس نہ پھیل سکے ہم چاہتے ہیں کہ افغان سرحد کھل جائے تاکہ لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو چمن کی آبادی کا بڑا حصہ بارڈر کی بندش سے متاثر ہے لیکن احتیاطی تدابیر مکمل ہونے کے بعد بارڈر کو کھولنے کی کوشش کی جائیگی ۔ 0

Comments are closed.