Khabardar E-News

کورونا وائرس: کروز شِپ کے تمام مسافروں کے ٹیسٹ مکمل، کل سے انخلاء شروع ہوگا

192

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پُراسرار کورونا وائرس کے پیشِ نظر جاپان کے شہر یوکوہاما کے ساحل کے قریب 3 فروری سے قرنطینہ میں کھڑے بحری جہاز میں موجود تمام افراد کے ٹیسٹ مکمل کرلیے گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپان کے شہر یوکوہاما کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر قرنطینہ میں کھڑے ’ڈائمنڈ پرنسز‘ نامی بحری جہاز میں اب تک 12 فیصد افراد اس خوفناک وائرس سے محفوظ ہیں۔

جاپانی حکومت کے مطابق جہاز میں موجود تمام مسافر اور عملے کے افراد کا ٹیسٹ کرلیا گیا ہے اور نتائج آنے کے بعد 19 فروری سے جہاز سے مسافروں کے انخلاء کا عمل شروع ہوگا جس میں مزید دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس کروز شپ میں تقریباً 3 ہزار 700 افراد سوار ہیں جن میں مسافر اور جہاز کا عملہ شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا نے بھی’ڈائمنڈ پرنسز‘ میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 400 سے زائد ہے۔

کروز شپ کو قرنطینہ میں رکھنے کے معاملے میں جاپان پر کافی تنقید بھی کی جارہی ہے کیوں کہ جہاز میں روزانہ درجنوں افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہورہی ہے تاہم جاپان اپنی حکمت عملی کا دفاع کررہا ہے۔

جاپان کے وزیر صحت کاٹسونوبو کاٹو‘ کا کہنا ہے کہ سیاحتی بحری جہاز میں موجود مسافر جو وائرس سے متاثر نہیں ہیں انہیں کل (بدھ) سے قرنطینہ کی مدت ختم ہونے کے بعد جہاز سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے جہاز پر موجود ہر شخص کے ٹیسٹ کیے ہیں، کچھ لوگوں کے ٹیسٹ کے نتائج آگئے ہیں اور جن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے 19 فروری سے جہاز سے ان کے انخلاء کا آغاز کردیا جائے گا‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ لوگ جو وائرس سے متاثرہ افراد کے زیادہ قریب رہے ہیں انہیں مزید قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ آخری مسافر کے جہاز سے اتر جانے کے بعد عملے کے ارکان کو بھی مزید کچھ دنوں کیلئے الگ تھلگ رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، ہانگ کانگ اور اب جنوبی کوریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بحری جہاز میں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

جاپان کی مقامی نیوز ایجنیسی کے مطابق ڈائمنڈ پرنسز نامی بحری جہاز میں مجموعی طور جنوبی کوریا کے 14 افراد سوار ہیں جن میں سے 10 جاپان کے ہی رہائشی ہیں اس لیے انہوں نے وہاں سے نکلنے سے منع کردیا ہے جبکہ باقی 4 افراد کو خصوصی طیارے سے واپس اپنے ملک لایا جائے گا۔

امریکا اب تک اپنے 3 سو زائد افراد کو جہاز سے نکال چکا ہے جن میں کئی افراد میں وائرس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔

امریکا کی طرح باقی ممالک بھی جہاز سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے بعد ان افراد کو وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر 14 دن تک قرنطینہ میں ہی رکھیں گے۔

علاوہ ازیں جہاز میں کینیڈا کے بھی 256 شہری سوار ہیں جن میں سے 32 افراد میں اب تک وائرس کی تشخیص کی جاچکی ہے۔

اب تک اس سیاحتی بحری جہاز میں 542 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن کو فوری علاج کے لیے مقامی اسپتال بھی منتقل کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں جاپان میں بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آرہے ہیں۔ اس بحری جہاز کے علاوہ بھی جاپان میں کورونا وائرس کے اب تک 65 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں بیشتر افراد وہ ہیں جو حالیہ دنوں میں چین نہیں گئے ہیں اور نہ ہی ان کا وہاں سے کوئی تعلق ہے۔

حکام کے مطابق جاپان میں یہ خوفناک وائرس آہستہ آہستہ پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اجتماعات میں جانے سے بھی پرہیز کریں۔

اس کے علاوہ وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر جاپان میں ’ٹوکیو مراتھن‘ میں شوقیہ حصہ لینے والے 38 ہزار افراد کی شرکت متوقع تھی جنہیں روک دیا گیا ہے جبکہ اب دوڑ میں صرف معروف ایتھلیٹ ہی شرکت کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ جاپان کے بادشاہ ناروہیتو کی سالگرہ کی مناسبت سے جشن کی تقریب بھی ملتوی کردی گئی ہے۔

Comments are closed.