Khabardar E-News

ملک میں عملاءماشل لاء نافذ ہے، عثمان کاکڑ

135

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کےلئے تما م سیاسی جماعتوں کواپناکردار اداکرناہوگاموجودہ صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیارات نہیںہیں،افغا ن امن کانفرنس کوسبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
افغانستان میں جب تک امن نہیں آئے گاخطے میں امن ترقی وخوشحالی نہیں آئے گی، وفاقی حکومت معاملات کو ٹھیک طریقے سے نہیں چلارہی ہے اور تمام اداروں کو مفلوج کردیاگیا ہے،میڈیاسے بات چیت
کوئٹہ(آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں عملاً سول مارشل لا ہے ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ا دا کرنا ہوگا موجودہ صوبائی حکومت کے پاس کسی قسم کااختیار نہیں ہے ان کے پاس ٹرانسفر پوسٹنگ تک کا اختیار کسی اورکے پاس رکھا گیا ہے افغانستان میں جب تک امن نہیں آئے گاخطے میں امن ترقی وخوشحالی نہیں آئے گی افغانستان میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہیں اورافغان امن کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے میڈیا کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ جب ملک میں آئین وقانون کی پاسداری نہیں کی جاتی وہاں پھر ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ کچھ قوتیں اپنے مفادات کیلئے آئین کو بھی پامال کرتے ہیں اور آئین کو پامال کرنے کیلئے ایسی غیر جمہوری قوت کو اقتدار پر مسلط کرتے ہیں جو ان کے ذریعے تمام تر معاملات کئے جاتے اس وقت ملک میں عملاً مارشل لا ہے اور جمہوری نظام کو کمزورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کیلئے تمام سیاسی وجمہوری قوتوں کو ایک پیج پر اکھٹا ہونا ہوگا وفاقی حکومت معاملات کو ٹھیک طریقے سے نہیں چلارہے ہیں اور تمام اداروں کو مفلوج کردیا ہے اور ملک میں کوئی بھی ادارہ صحیح معنوں میں کام نہیں کررہا کیونکہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کرسکتے اگر اختیارات ان کے پاس ہوتے تو یہ عوام کے مفاد کیلئے کچھ کرسکتے تھے ملک کے داخلہ وخارجہ پالیسیوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چاہیے جب تک داخلہ وخارجہ پالیسی پارلیمنٹ سے نہیں بنیں گے اس وقت تک ہم تنہا رہیں گے 70سالوں میں جو کچھ کیا اب وہ نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں افغان صدر کے قافلے پرحملے کی مذمت کرتے ہیں اور کچھ لوگ افغانستان کی ترقی وخوشحالی نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ افغانستان کوایک آزاد حیثیت سے تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں افغانستان میں امن کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

Comments are closed.