Khabardar E-News

کیا ینگ ڈاکٹرز کو کل کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ؟

18

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار ڈیسک ) بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز نے ایک بار پھر حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے

مطالبات نہ مانے گئے تو وہ 17مارچ کو کوئٹہ کے ریڈ زون میں نہ صرف داخل ہونگے بلکہ وزیر اعلیٰ کی

عمارت کے سامنے احتجاجی مارچ شروع کریں گے

لیکن حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انکے مطالبات کے لیے سمری پر کام ہورہا ہے اور جلد ہے ایک

ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں کو ملازمت دی جاے گی

بلوچستان ینگ ڈاکٹرز یونین نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات کے حوالے سے کوئی مناسب

نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو وہ 17 مارچ کو کوئتہ کے ریڈ زون میں داخل ہونگے بلکہ وزیراعلیٰ کے دفتر کے

سامنے دھرنا دین گے

کیا ینگ ڈاکٹرز کو کل کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ؟

جو مطالبات عملی طور پر تسلیم ہونے تک جاری رہے گا

خبردار نیوز سے بات چیت کرتے ہوے ینگ ڈاکٹرز یونین کے صوبائی چیئرمین ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے کہا

کہ حکومت بلوچستان نے ایک ماہ قبل ان کے مطالبات تسلیم کیے تھے لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں

اٹھایا۔

دوسری جانب کوئٹہ کے اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث متعدد مریضوں کو شدید پریشانی کا

سامنا ہے، تاہم ہڑتالی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کیمپ کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز او پی ڈیز لگار کر زیادہ تر مریضوں

کا علاج معالجہ کر رہے ہیں

اس دوران میں نے کوئٹہ میں بلوچستان کے سیکریٹری صحت نور الحق بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا

کہ وہ ڈاکٹروں کی درخواستوں کے بارے میں سمیری وزیراعلیٰ کو ارسال کی گئی ہے اور جیسا ہی وہاں سے

احکامات صادر ہونگے تو عملی اقدامات شروع کیے جائینگے تاہم ادوات اور مشنری کے حوالے کہی حل طلب

اقدامات پہلےئ ہوچکے ہیں

حکومت سے مذاکرات کامیاب ،مطالبات پر عملدرآمد کے منتظر ہیں -ینگ ڈاکٹرز

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ینگ ڈاکٹرز گزشتہ 6 ماہ سے سراپا احتجاج ہیں

تاہم 9فروری کو حکومت اور ہرتالی ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے

لیکن ینگ ڈاکٹرز کے مطابق ابھی تک کوئی حکومت کی جانب سے انکے مطالبات کے تسلیم ہونے کا

نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے

جس کے باعث کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی بند اور آپریشن تھیٹر کا بائیکاٹ جاری ہے

Comments are closed.