Khabardar E-News

بلوچستان ہائی کورٹ نے گورنرہاوس میں بھرتیوں کا غیرقانونی عمل روک دیا

31

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جناب جسٹس روزی

خان بڑیچ پر مشتمل بینچ نے گورنر ہاؤس کوئٹہ سے گزشتہ روز مختلف اسامیوں کے لیے جاری و شائع شدہ

اشتہار پر ذمہ داران کو آئینی پٹیشن کا فیصلہ ہونے تک بھرتیوں سے روک دیا ہے

معزز عدالت نے یہ حکم پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان و دیگر کے خلاف دائر آئینی درخواست کی

سماعت کے دوران دیا

معزز عدالت کو کچی پیشی کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ جواب دہندہ نمبر2 نے پی ار کیو

نمبر 3225 مجریہ 12 اپریل 2022 کے ذریعے روزنامہ اخبار میں پانچ مختلف آسامیوں کا اشتہار دیا ہے

ان آسامیوں پر سلیکشن میرٹ و کنٹریکٹ بنیادوں پر کی جانی ہے

جب کہ نہ تو پوسٹوں کے گریڈ اور نہ ہی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے اور امیدواروں کو درخواستیں جمع

کرانے اور ٹیسٹ و انٹرویوز کے لیے محض دو دن کا ٹائم دیا گیا ہے

بلوچستان ہائی کورٹ نے گورنرہاوس میں بھرتیوں کا غیرقانونی عمل روک دیا

درخواست گزار کے وکیل نے مزید بتایا کہ مذکورہ اشتہار کے فورا بعد یعنی 13 اپریل 2022کو گورنر

بلوچستان نے اپنا استعفی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھجوایا ہے

اور اب جواب دہندہ نمبر2 کو مشتہر پوسٹوں کو پر کرنے کی جلدی ہے جب کہ دو دن کے اندر کنٹریکٹ کی

بنیاد پر اس طرح کی تقرر یوں کا کوئی موقع نہ محل ہے خصوصاجب کہ گورنر بلوچستان اپنا استعفی دے

چکے ہیں

معزز عدالت نے ان دلائل و مباحث کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آئینی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور

کرلی

اور جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا معزز عدالت نے سی ایم اے نمبر 1393/ 2022 میں

جواب بندگان اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا

معزز عدالت نے اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ ہونے تک جواب دہندگان کو۔

اشتہار نمبر3225 مجریہ 12 اپریل 2022 کے مطابق کئیر ٹیکر، اسسٹنٹ کئیر ٹیکر، کک، اے سی ٹیکنیشن

اور ویٹرکی آسامیوں پر بھرتیوں سے بھی روک دیا۔

Comments are closed.