Khabardar E-News

مشرف کیخلاف سارے آرڈرز ختم ہو گئے،واپس آسکتے ہیں، عرفان قادر،بیرسٹرعلی ظفر

224

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سابق صدرپرویزمشرف کیخلاف فیصلہ سنانے میں جلدی کی گئی اورججز جلدی سے اس کیس کو لپیٹناچاہتے تھے، سابق اٹارنی جنرل کا رد عمل
اگرکابینہ اوروزیراعظم پرویز مشرف کیخلاف کیس چلانے کافیصلہ کریں گے توپھر دوبارہ سے درخواست دائر کرناپڑے گی ،سابق وفاقی وزیر قانون
اسلام آباد(آن لائن)سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے پرویز مشرف کیخلاف سارے آرڈرز ختم ہو گئے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران پرویز مشرف کی درخواست پر لاہورہائیکورٹ کے فیصلے ردعمل دیتے ہوئے ا نہوں نے کہاکہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سارے آرڈرز ختم ہو گئے ہیں اور اس حد تک یہ فیصلہ درست ہے کیونکہ اس کے اثرات بڑے لاب سائیڈڈ تھے ۔ایک سوال پرویز مشرف اب آزادہیں اوروہ واپس آسکتے ہیں کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے یہ فیصلہ پڑھنا پڑھے گا ،میں نے ابھی فیصلہ پڑھا نہیں ہے لیکن میری شروع سے ہی یہ رائے تھی کہ یہ ٹرائل غیرقانونی اورغیرآئینی ہے ، اچھا ہواہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قراردیدیاگیاہے۔سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالتی فیصلے ملزم کی غیرموجودگی میں فیصلہ سناناغیرآئینی اورغیراسلامی ہے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک ہے جب پرویز مشرف نے کہہ دیاتھا کہ وہ آناچاہتے ہیں توان کی بات سن لی جاتی توبہترتھا،مشرف کیخلاف فیصلہ سنانے میں جلدی کی گئی اورججز جلدی سے اس کیس کو لپیٹناچاہتے تھےعلاوہ اذیںسابق وفاقی وزیر قانون علی ظفر نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کیخلاف تمام مقدمات ختم ہو گئے ا گر پرویز مشرف آناچاہیں تو واپس آ سکتے ہیں۔سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اپنی نوعیت کویونیک اوردرست فیصلہ ہے کیونکہ عدالت کے سامنے جو دستاویزات رکھے گئے اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کی تشکیل میں کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی ہائیکورٹ نے دو دن بحث کے بعد خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرآئینی اور غیرقانونی قراردیا۔عدالت کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا کہ پورے کے پورے عمل کو کالعدم قراردے اس لحاظ سے فیصلہ قانون اورآئین کے مطابق ہے ،علی ظفر کاکہناتھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پرویز مشرف کیخلاف تمام آرڈزختم ہو گئے ،جب خصوصی عدالت کی تشکیل ہی غیرقانونی اورغیرآئینی تھی تو اس کے بعد خصوصی عدالت کے جتنے بھی فیصلے ہوںگے وہ سب ختم ہو گئے ا گر پرویز مشرف آناچاہیں تو واپس آ سکتے ہیں۔علی ظفر نے کہا کہ جب اس ٹربیونل کی تشکیل ہو رہی تھی تواس کے سیکرٹری قانون نے وزیراعظم اورکابینہ کو لکھا کہ اب چونکہ آرٹیکل 90 آچکا ہے اس لئے اس کی تشکیل کافیصلہ وفاقی کابینہ کوہی کرنا ہے اس وقت وفاقی کابینہ نے فیصلہ نہیں کیا اورجب شروع شروع میں یہ کیس خصوصی عدالت کے پاس گیا تو مشرف کے وکلا نے اس وقت ایک درخواست دی تھی اس درخواست میں لکھاتھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں ہے اس لئے آپ آگے نہیں سن سکتے لیکن اس پر کوئی مثبت فیصلہ نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا اب پرویز مشرف پر کوئی کیس نہیں اب کابینہ اوروزیراعظم سابق صدرپرویز مشرف کے خلاف کیس چلانے کافیصلہ کریں گے توپھر دوبارہ سے درخواست دائر کرناپڑے گی اور دوبارہ سے عدالت بنے گی اوریہ کیس آگے چلے گا۔انہوں نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

Comments are closed.