Khabardar E-News

بلوچستان میں ڈھائی لاکھ جعلی شناختی کارڈ ہولڈرہیں ،اچکزئی

179

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) نگران صوبائی وزیراطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی

وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے اب تک۔ ایک لاکھ تارکین وظن واپس جاچکے ہیں جںکہ پندرہ سو غیر

قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا

پچاس ہزار جعلی شناختی کارڈ بلاک کئے جاچکے ہیں افغان حکومت کے چند نمائندے تعاون کرنے کی

بجائے صورتحال کو خراب کررہے ہیں

کوئٹہ پریس کلب میں نیوز کانفرس کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات جان ا چکزئی کا کہنا غیر قانونی طور

پر مقیم تمام قومیتوں اور تمام ملکوں کے افراد واپس جارہے ہیں

حکومت پاکستان اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر غیر قانونی تارکین وطن

کی واپسی کیلئے استعمال کررہے ہیں

اس صورتحال میں پاکستان سے تعاون کرنے کے بجائے بعض افغان حکام صورتحال کو خراب کرنے کی

کوشش کررہے ہیں

پاکستان کو دھمکیوں سے کام نہیں چلے گا افغان حکام اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور اپنے شہریوں کو

بسانے کا بندوبست کریں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا

ہمارا اب بھی یہی مطالبہ ہے کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کرنے والوں کو اپنی

سرزمین استعمال نہ کرنے دے

دہشتگردی کا کارروائیوں میں ملوث TTP کے ذمہ داروں کو پاکستان کے حوالے کرے گر افغانستان نے ان

دہشتگردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو پاکستان دہشتگردوں سے نمٹنا جانتا ہے

واپس جانے والوں کے لئے تین گز گاہیں فعال ہیں ایک لاکھ افراد واپس جاچکے ہیں غیر قانونی طور پر قیام

کرنے والے
پندرہ سو لوگوں کو گرفتار کیا گیا یے
سندھ سے پندرہ سو افراد ارہے ہیں چمن سرحد سے روزانہ دس ہزار افراد جارہے ہیں
تارکین وطن کے لئے موسم کے مطابق گزر گاہیں اور گرم ملبوسات کا انتظام کیا جارہا ہے
تندور ایسوسی ایشن کا تارکین وطن کے حوالے سے کوئی مطالبہ تسلیم نہی ہوگا مکران ڈویزن سے ایرانی تارکین وطن کے شناختی کارڈ بھی بلاک ہوئے ہیں
بلوچستان میں پچاس ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے ہیں اڑھائی لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں جعلی شناختی کارڈ میں معاونت کرنے والوں کو بھی نہین بخشا جائے گا چمن تجارتی راہداری کا از سرے نو جائزہ لیا جارہا ہے کسیکو کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا مسئلہ حل نہی ہوا ۔

Comments are closed.