Khabardar E-News

وزیراعلی بزنجو کے خلاف اپریل سےقبل تحریک عدم اعتماد کا امکان نہیں

32

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ( خبردار ڈیسک ) بلوچستان کی مخلوط حکومت میں ایک بارپھر اختلافات بڑگئے اور اسکا شدت گذشتہ

روز اس وقت ظاہر ہوا جب صوبائی وزیر ظہوربلیدی سے پی اینڈ ڈی کا قلمندان چھین لیا گیا

جس کے باعث سابق وزیراعلی جام کمال کی قیادت میں وزیراعلی بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو کے مخالفین

اسلام آباد میں اکٹھے ہوگئے

سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال ، میرظہور بلیدی اور سردار یار محمد رند کے درمیان نہ صرف ملاقاتیں

ہوئی ہیں بلکہ انہوں نے وزیراعلی بزنجو کے خلاف بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد لانے پر بھی بات چیت

کی اور کہا کہ انکی پالیسوں کی وجہ سے صوبے میں نہ صرف ترقیاتی کام رکے ہوے ہیں بلکہ ملازمتیں بھی

فروخت ہور ہی ہیں

بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوے سابق وزیر اعلی جام کمال نے قدوس بزنجو کی حکومت پر سخت تنقید

کرتےہوے کہا کہ صوبے میں سرعام نوکریوں کی خرید وفروخت ہورہی ہے –

انکے مطابق بلوچستان کی موجودہ حکومت عوام کی فلاح وبہبود میں ناکام ہوچکی ہے

وزیراعلی بزنجو کے خلاف اپریل سےقبل تحریک عدم اعتماد کا امکان نہیں

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے کہا کہ وہ صوبے میں تبدیلی

لانے کے لیے جمیعت اور بی این پی سے رابطے میں ہے

اگرچہ بلوچستان حکومت کی جانب سے تاحال جام کمال اور سردار یار محمدرند کے ان الزامات کا کوئی جواب

نہیں دیا گیا ہے

یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں حکومت اور حزب اختلاف کے زیادہ تر ارکان اسمبلی نے مل کر سابق وزیر

اعلی جام کمال کو وزارت اعلی سے نہ صرف ہٹا دیا تھا بلکہ میر عبدالقدوز بزنجو کے وزارت اعلی کے لیے

راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا بن گئے تھے

لیکن پانچ ماہ کے قلیل مدت میں زیادہ تراتحادی میر قدوس بزنجو سےنہ صرف ناراض ہوگئے بلکہ انکے

خلاف ایک بارپھر تحریک عدم اعتماد لانے پر غور شروع کردیا ہے

تاہم یہاں بعض آئینی ماہرین کے مطابق چھ ماہ سے کم عرصے میں کسی وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم

اعتماد نہیں لائی جاسکتی ہے

Comments are closed.