Khabardar E-News

پشتو ادب کے معروف شاعر عمر گل عسکر انتقا ل کرگئے

231

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( سٹاف رپورٹر) پشتو ادب کے معروف شاعر مصنف اور کالم نگار عمر گل عسکر 74 سال کی عمر میں آج وفات پاگئے انکی نماز جنازہ 4 بجے کینٹ قبرستان میں ادا کردی گئی وہ کچھ عرصہ سے پیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے۔

ممتاز شاعر اور ادیب عمر گل عسکر 15 اگست 1948 کو بلوچستان کے شہر ژوب میں پیدا ہوے تھےانہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ژوب پرائمری سکول میں کی اور پھر بوری یا لورالائی سے ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا جبکہ کوئٹہ سے ایف اے کرنے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سےایم اے اکنامکس کیا ۔
یونیورسٹی کے فراغت کے بعد کوئٹہ میں حبیب بنک میں ملازمت شروع کی اور حبیب بنک سے منیجر کی حیثیت سے سال 2007ء میں ریٹائر ہوئے۔
اعلیٰ تعلیم کے بعد انہیں ادب سے پیار ہو گیا اور انہوں نے پشتو ادب کی خدمت کے لیے بہت محنت کی۔

بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ پشتو کے سربراہ ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب نے عمر گل عسکر کی ادبی زندگی کے بارے میں خبردار نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ پشتو زبان کی خدمت کی ۔
مرحوم عمر گل عسکر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں حکومت بلوچستان کی جانب سے اخونزادہ عبدالعلی ایکسیلینس ایوارڈ 2017 سے نوازا گیا،اس وقت کے گورنر محمد خان اچکزئی نے انہیں یہ ایوارڈ ایک پروقار تقریب میں عنایت کیا – وہ پشتو اکیڈمی کے صدر بھی رہے

مرحوم عمر گل عسکر کا پشتو شاعری کا مجموعہ “پہ دائرہ کی کائنات”اور تحقیق پر تصنیف ” خاطری او نظرونہ ” سمیت”نڑیوال تصوف” شائع ھو چکی ہیں ، مرحوم عمرگل عسکر کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ور پچھلے 25 سالوں سے وہ پشتو ادبی سوسائٹی ملگری لیکوال کے ساتھ وابستہ رہے اور پچھلے 10 سالوں سے وہ اس ادبی تنظیم کے سربراہ تھے۔
وہ ریڈیو پاکستان کوٹی کے ایک مشہور پروگرام ملک جان اور اختر جان کے پروگرام (خبری آتری) کے اسکرپٹ رائٹر بھی تھے۔
دریں اثناء پشتو اکیڈمی کے رکن پروفیسر برکت شاہ نے بتایا کہ عمر گل عسکر نے پشتو ادب کی بڑی خدمت کی ہے اور پچھلے 35 سال سے کوئٹہ کے جنگ اخبار میں پشتو محفل کے نام سے کالم لکھ رہے ہیں۔ جس میں وہ خطہ اور خصوصاً بلوچستان کا پشتون ادب اور اقدامات کو اجاگرکیا کرتے تھے –
برکت شاہ کے مطابق عمر گل عسکر پشتو اکیڈمی کے رکن تھے اور ان کی آخری کتاب پشتو زبان میں شائع ہوئی تھی۔
ایک رشتہ دار سرفراز شیخ کے مطابق عسکر صاحب کی چار کتابیں شائع ہوئی تھی ، جن میں تحقیق سے بھرپور یادداشتیں اور خیالات شامل تھے، جن میں سے زیادہ تر خاورین وجود کا احساس انکے شاعری میں نمایاں کتاب ہے ۔

Comments are closed.