Khabardar E-News

بھارت سے مذاکرات نہیں کرینگے ،عمران خان

91

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لوگوں میں صبر نہیں ہوتا ،13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟،آپ دیکھیں گے تبدیلی کیسے آئے گی، ہم کاروباری طبقے کی پوری مدد کررہے ہیں،کمزور طبقات کی مدد کریںگے
مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تومعاملات کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں، دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں
بھارت سے مذاکرات نہیں کرینگے(بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر میں حالات بہترکرےمودی سے بات کرنے کی کوئی اخلاقی صورت نہیں)
اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی،ہمارے لیے مدینہ کی ریاست آئیڈیل ہے تاہم وہ پہلے دن نہیں بن گئی تھی، وہ ایک جدوجہد تھی، یہ ملک بھی بدلے گا، امریکی سینٹرسے گفتگواور تقریب سے خطاب
اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تومعاملات کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اوراب مودی سے بات کرنے کے لئے کوئی اخلاقی صورت نہیں، بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں، دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان سے امریکی ارکان سینیٹ کرس وان ہولین اور میگی حسن نے ملاقات کی جس میں امریکی رکن کانگریس طاہر جاوید، ناظم الامور پال جونز بھی شامل تھے۔ مریکی وفد نے آزاد کشمیر کے دورے کے بعد ذاتی مشاہدے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔وزیراعظم نے مسئلہ کشمیرپرتعاون کرنے پرسینیٹرز سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بھارت نہیں جو میں سمجھتا تھا، مودی نے بھارت کا چہرہ پوری دنیا میں تبدیل کردیا ہے، میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا ہامی تھا لیکن اب جب تک بھارت کشمیر کے حالات بہتر نہیں کرتا مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ہندو سپرمیسی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں، معاملات کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں اور اگر معاملات خراب ہوئے تو دنیا کے لیے پریشانی ہوگی اور اب مودی سے بات کرنے کے لئے کوئی اخلاقی صورت نہیں۔افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر مرحلہ وار بات چیت ہونی چاہیے، طالبان چاہتے ہیں کہ امن ہو اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو۔اس موقع پرامریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر کشمیراورافغان امن عمل آگے بڑھانے پرزوردیں گےعلاوہ اذیںوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں میں صبر نہیں ہوتا ،13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟،آپ دیکھیں گے تبدیلی کیسے آئے گی، ہم کاروباری طبقے کی پوری مدد کررہے ہیں، کبھی کسی حکومت نے انڈسٹری کی ایسی مدد نہیں کی جو ہم کررہے ہیں، جب ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں گے تو ریاست میں برکت آئیگی،جب تک ہمارے ملک میں روزگار کے حالات بہتر نہیں ہوتے ہم کوشش کریں گے کہ کوئی شخص بھوکا نہیں رہے۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان نے احساس سیلانی لنگر اسکیم کا افتتاح کردیا، اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ احساس سیلانی لنگر اسکیم کے تحت روزانہ 600 ضرورت مند افراد کو مفت کھانا تقسیم کیاجائیگا اور اس اسکیم کو دیگر شہروں میں بھی شروع کیا جائے گا، ملک بھر میں 112 لنگر خانے کھولے جائیں گے۔افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہسپتال بناتے وقت خوش قسمت افراد سے رابطہ رہا، احساس پروگرام غربت کم کرنے کا سب سے بڑا پروگرام ہے ، اس پروگرام سے لنگر خانے کے لیے فنڈ دیں گے، ہمیں کمزور طبقے کی ذمہ داری لینی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم سارا ٹیکس غریب پر مہنگائی کرکے اکٹھا کرتے ہیں، اس سے فاصلے بڑھ رہے ہیں، اس سے نظام میں برکت نہیں آتی، ہم اس کو الٹا کررہے ہیں، ہم کاروباری طبقے کی مدد اس لیے کریں گے کہ وہ پیسہ بنائیں، اس سے ہمارا ٹیکس اکٹھا ہو اور وہ ہم کمزور طبقے پر خرچ کریں، جیسا چین نے کیا۔انہوںنے کہاکہ ہم کاروباری طبقے کی پوری مدد کررہے ہیں، کبھی کسی حکومت نے انڈسٹری کی ایسی مدد نہیں کی جو ہم کررہے ہیں، نیا پاکستان ایک فلاحی ریاست ہوگا جو اب تک نہیں ہوا، لوگوں میں صبر نہیں ہوتا، 13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان، ہمارے لیے مدینہ کی ریاست آئیڈیل ہے تاہم وہ پہلے دن نہیں بن گئی تھی، وہ ایک جدوجہد تھی، یہ ملک بھی بدلے گا، آپ دیکھیں گے تبدیلی کیسے آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں گے تو ریاست میں برکت آئے گی، ہسپتالوں میں تبدیلی آرہی ہے، پولیس کا نظام تبدیل کررہے ہیں ہر اس جگہ کام کررہے ہیں جہاں عام آدمی کی زندگی بہتر ہو، جب لوگ بھوکے سوئیں تو ریاست میں بے برکتی آتی ہے۔عمران خان نے سیلانی ٹرسٹ کو عوام کی فلاح و بہبود میں خدمات سرانجام دینے پر سراہا اور کہا کہ ہم نے غربت مٹاؤ احساس پروگرام کے تحت کے پہلے فیز میں 112 لنگر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کوئی بھی بھوکا نہ رہے اور اس لنگر کو ہر علاقے تک توسیع دی جائیگی۔

Comments are closed.