Khabardar E-News

کوئٹہ: سرکی تھانہ پولیس اہلکاروں کی غنڈہ گردی ،شاہدخان یوسفزئی زخمی

107

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ ( خبردار ڈیسک) بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پولیس کے چند اہلکاروں کی غنڈہ گردی- جو

محکمہ پولیس اور اعلی حکام کی شرمندگی کا باعث بنی ہوئی ہے – شہریوں نے آئی جی پولیس اور دیگر اعلی

حکام سے سرکی روڈ تھانہ کے ان اہلکاروں کے ناروا رویے کانوٹس لینے اور ان کے خلاف اقدامات کرنے کا

مطالبہ کیا ہے

کوئٹہ کے کاسی روڈ پر واقع مسجد نور گلی میں چھ جنوری کی رات دس سے ساڑے دس بجے کے دوران چار

یا پانچ پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک پولیس پارٹی نے ایک مکان پر چھاپہ مارا – جہاں سے ایک شخص کو

گرفتار کرکے اس پر بدترین تشدد شروع کی جس سے مذکورہ شخص شدید زخمی ہوا –

اس دوران اہل محلہ نے گھروں سے باہرنکل کرپولیس سے مذکورہ شخص پرسرعام تشدد روکنے اور جرم کی

وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی – لیکن چھاپے میں موجود ایک پولیس اہلکارزیشان نے اہل محکہ پرکلاشنکوت

تھان لی اورخبردارکیا کہ اگرکسی نے معاملے میں مداخلت کی تو انہیں فائر کرکے قتل کردیں گے –

اس دوران پولیس اہلکار زیشان نے ایک محلہ دار شاہدخان ولد ظاہرشاہ پر کلاشنکوف تھان کرخبردار کیا کہ

اگرانہوں نے کوئی اور سوال کیا تو گولی چلادیں گے جس پر شاہد خان نےپولیس اہلکاروں سے مذکورہ گرفتار

شخص پربلاجوازتشدد کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکارزیشان نے شاہد کو کلاشنکوف

کابٹ مارکر شدید زخمی کیا –

بعد میں جبکہ کاسی روڈ مسجد نورگلی کے مکین مذکورہ شخص کی تلاش کے لیے گوالمنڈی تھانے پہنچے تو

معلوم ہوا کہ وہ وہاں پر موجود نہیں ہےاور مذید معلومات کرنے پر تصدیق ہوا کہ چھاپہ سرکی روڈ تھانہ کے

پولیس اہلکاروں کا تھا جس نے گوالمنڈی تھانہ کے ایس ایچ اوکو اعتماد میں لیے بغیر غیرقانونی طور پرازخود

یہ اقدام کیا ہے

کوئٹہ: سرکی تھانہ پولیس اہلکاروں کی غنڈہ گردی ،شاہدخان یوسفزئی زخمی

اہلیان کاسی روڈ اور نورمسجد گلی کے مکینوں نے آئی جی پولیس بلوچستان طاہر آے راے اور دیگراعلی حکام

سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکی روڈ تھانہ پولیس اہلکاروں کے اس اقدام کا نہ صرف نوٹس لیا جاے بلکہ شہری

شاہد خان پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکار زیشان سمیت چھاپہ میں ملوث تمام اہلکاروں کو فوری طور پر معطل

کرکے اس کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جاے تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح قانوں ہاتھ میں لینے کی جرات نہ

اور نہ ہی سرعام بے گناہ شہریوں پر تشدد کرکے قانون کی خلاف ورزی کرسکے –

ان شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرانکی فوری داد رسی نہ ہوئی تونہ صرف مذکورہ پولیس اہلکاروں کے

خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے مراجہ کریں گے بلکہ سڑکوں پر احتجاج کرنے پر بھی مجبور ہونگے

Comments are closed.