Khabardar E-News

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ، اسلام آباد میں سرگرمیاں تیز

18

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد ( خبردار ڈیسک ) وزیراعظم پاکستان عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ برقرار ہےجس

کے لیے حزب اختلاف کی جماعتں متحرک ہوچکی ہے

اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ اہم مشن پر آج اسلام آباد پہنچ گئے

خورشید شاہ کو چیئرمین بلاول نے لانگ مارچ چھوڑ کر اسلام آباد میں اہم ٹاسک مکمل کرنے کی ہدایت کی

تھی۔

اہم مشن پر اسلام آباد میں موجود خورشید شاہ نے صحافیوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوے کہا کہ

ریکوزیشن اور عدم اعتماد کے حوالے سے اسلام آباد میں بعض اہم کام کرنے ہیں، جس کے لیے آیا ہوں۔

خورشید شاہ کے مطابق ہمارا لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں، صرف اور صرف عمران خان کے خلاف

ہے۔

بقول انکے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائیں گے

ریکوزیشن جمع کرانے کے فورا بعد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دیں گے۔

اسی طرح لانگ مارچ کے اختتام پر قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن اور تحریک عدم اعتماد جمع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے مکمل یقین ہے عمران خان سے اس کی پارٹی کے لوگ بھی پریشان ہیں۔

جس کے باعث حکومت کے بارہ سے تیرہ ایم این ایز اپنا فیصلہ کر چکے ہیں۔

کیونکہ یہ حکومتی ارکان اب عمران خان کی ناکامیوں کا وزن اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے بتایا کہ ایک بات یقین سے کہہ سکتا عمران خان اپنی پارٹی

چوہدریوں کی جھولی میں کبھی نہیں ڈالے گا۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ، اسلام آباد میں سرگرمیاں تیز

اور گارنٹی سے لکھ لو، وہ چیف منسٹری پرویز الہی کو نہیں دے رہا تھا، پارٹی کیسے دے گا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر شفقت محمود وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری اور عثمان ڈار نے شاہراہِ قائد اعظم

پر پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ افسوس کی بات آصف زرداری سمیت دیگر نے ہارس ٹریڈنگ کررہے ہیں

اور ان لوگوں نے منڈی لگا رکھی ہے اس پر دلیل بھی دے رہے ہیں

انہوں نے سیاست میں خریدوں فروخت کی مزمت کرتے ہوے الزام لگایا کہ انکو بیرونی طاقتیں سپورٹ کر رہی

اس کی بھی مزمت کرتے ہیں

ایک سوال کے جواب میں ان وزراء کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف چاروں صوبوں کی جماعت ہے

جبکہ پیپلز پارٹی سندھ کی اور مولانا کی جماعت خیبرپشتونخواتک محدود ہے

Comments are closed.