Khabardar E-News

بنگال ٹائیگرز کا شکار، پاکستان کی بھرپور مشقیں

218

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 لاہور: بنگال ٹائیگرزکے شکار کا عزم لیے پاکستان ٹیم نے بھرپور مشقیں کیں، پیس ہتھیار چمکانے پرخصوصی توجہ مرکوز رہی۔

پاکستان اور بنگلادیش کے مابین آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریزکاپہلا میچ جمعہ سے راولپنڈی میں شروع ہوگا، پیر کو یہاں ڈیرے ڈالنے والے میزبان کرکٹرز نے بنگال ٹائیگرزکے شکارکا عزم لیے گزشتہ روز بھرپور مشقوں کا آغازکردیا،کھلاڑیوں نے وارم اپ کرنے کے بعد فٹبال کھیلتے ہوئے لہوگرمایا۔

بولنگ کوچ وقاریونس نے پیس ہتھیار چمکانے پر خصوصی توجہ دی، محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، عمران خان سینئر کیساتھ آل راؤنڈر فہیم اشرف نے بھی طویل سیشن کیے، اس دوران بولرزکومتعدد بارشارٹ گیندیں کرانے کی مشق کروائی گئی، یارکرز بھی کروائے گئے، اچھی گیندوں پرپیسرزکوداد تحسین بھی ملتی رہی، ایک الگ نیٹ میں یاسر شاہ اور بلال آصف اسپن کا جادوجگانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

ٹاپ آرڈربیٹسمینوں نے بھی کریزپرطویل وقت گزارا، ہیڈ کوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق نے عابد علی اورشان مسعود کی بھرپور رہنمائی کرتے ہوئے مفید مشورے دیے، امام الحق، اظہرعلی اورحارث سہیل بھی باہرجاتی گیندوں کوچھوڑنے کی پریکٹس کیساتھ اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلیے کوشاں نظرآئے، بابراعظم نے بھرپورفارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھے اسٹروکس کھیلے، انھیں پیسرز اور اسپنرز زیادہ پریشان نہیں کرسکے۔

مصباح الحق نے پچ کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا، دریں اثنا میچ کے انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی ہے، بنگلادیش کے سیکیورٹی وفد نے پی سی بی آفیشلز کے ہمراہ سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔

دوسری جانب بنگلادیشی ٹیم گزشتہ روز ڈھاکا سے براستہ دوحا اڑان بھرتے ہوئے پاکستان کیلیے عازم سفر ہوئی، بنگال ٹائیگرز کی اسلام آباد آمد بدھ کی صبح 7بجے شیڈول تھی۔ادھر بابر اعظم ایک بار پھر راولپنڈی میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کیلیے بیتاب ہیں، پاکستان نے10 سال کے طویل وقفہ کے بعد ہوم گراؤنڈ پرپہلا ٹیسٹ بھی دسمبر اسی مقام پر سری لنکا کیخلاف کھیلا تھا۔

بارش کی بار بار مداخلت اور نتیجہ یقینی طور پر ڈرا ہونے کے باوجود شائقینِ کی بڑی تعداد نے میچ کے پانچویں روز اسٹیڈیم کا رخ کیا تھا، چوتھے نمبر پر بیٹنگ کیلیے میدان میں اترنے والے بابراعظم کے ڈریسنگ روم سے کریز پر پہنچنے تک ہر طرف ’’بابر، بابر‘‘ کی گونج تھی، مڈل آرڈر بیٹسمین کا کہنا ہے کہ اس وقت جذبات ناقابل بیان تھے۔

اپنے کیریئر میں یہ آوازیں سننے کیلیے بیتاب تھا، تماشائیوں کی حوصلہ افزائی کے بعد کارکردگی دکھانے کیلیے پرعزم تھا اور سنچری بنانے میں کامیاب ہوگیا،یہ لمحات اپنی ہوم سیریز، بیرون ملک کھیلنے کی وجہ سے میسر نہیں تھے۔

بیٹنگ کے دوران امپائر نے کم روشنی کے باعث میچ جلد ختم ہونے کا ذکر کیا جس کے باعث ففٹی اسکور کرنے کے باوجود دباؤکا شکار تھا، عابد علی کی حوصلہ افزائی نے سنچری مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اس دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب ان کی ایک نظر ڈھلتے سورج پر تھی اور دوسری اسکور بورڈ پر، ہوم گراؤنڈ پر سنچری اسکورکرنے کا خواب پوراکرنا چاہتا تھا، اسی لیے آخری سیشن میں جارحانہ اندازاپنالیا تھا، تھری فیگراسکورہونے پرسکھ کا سانس لیا۔

Comments are closed.