Khabardar E-News

امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 11 ہوگئی

168

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کیلی فورنیا: امریکا میں کورونا وائرس کے گیارہویں کیس کی تصدیق ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا کے حکام نے ریاست میں مزید کیس سامنے آنے کی تصدیق کی جس کےبعد امریکا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 11 ہوگئی۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک کیس سانٹا کلارا کاؤنٹی اور مزید دو کیسز سان بینیٹو کاؤنٹی میں سامنے آئے۔

حکام کے مطابق سانٹا کلارا کاؤنٹی میں خاتون اور ان کے اہلخانہ کو قرنطینہ میں رکھا گیا جس کے بعد خاتون کو گھر میں ہی تنہائی میں رکھ دیا گیا ہے جب کہ خاتون کی طبیعت اتنی خراب نہیں کہ انہیں اسپتال منتقل کیا جائے۔

حکام نے بتایا کہ خاتون نے حال ہی میں چینی شہر ووہان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد یہ سانٹا کلارا میں وائرس کا دوسرا کیس ہے۔

اس کے علاوہ سان بینیٹو میں میاں بیوی میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ شوہر نے حال ہی میں وائرس سے متاثرہ اپنی اہلیہ سے ووہان میں ملاقات کی تھی جس کے بعد وائرس شوہر میں منتقل کیا۔

چین سے دنیا میں پھیلنے والا ’کورونا وائرس‘ اصل میں ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئں۔

Comments are closed.