Khabardar E-News

کوئٹہ: بلوچستان میں سیاہ کاری کے الزام میں خواتین سمیت 24 افراد کا قتل

6

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوہلو ( نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع کوہلو کے سب تحصیل تمبو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون قتل جبکہ ایک شخص زخمی ہوا ہے جس سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ غازی خان پنجاب ریفر کردیا گیا ,,
لیویز ذرائع نے فائرنگ کی وجہ سیاہ کاری بتاتے ہوے قتل ہونے والی خاتون کی نعش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہلو منتقل کر دیا گیا,, جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے ضروری کاروائ کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئ –
تحصیل تمبو میں فائرنگ کے الزام میں نامعلوم افراد کے خلاف مقد مہ درج کردیا ہے اور تفتیش جاری ہے لیکن ابھی تک کوئ گرفتاری عمل میں نہیں آئ ہے –
پاکستان میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاﺅنڈیشن بلوچستان میں ریجنل ڈائریکٹر علاؤ الدین خلجی نے کہ ماضی کے مقابلے میں صوبے کے مختلف علاقوں خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور اس سال جنوری سے جون تک تشدد کے واقعات میں 34 خواتین قتل کی گی جس میں 24 سیاہ کاری کے الزام میں قتل ہوئ ہیں- جن میں 15 خواتین اور 9 مرد شامل ہیں
ریجنل ڈائریکٹر کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سب سے زیادہ نصیر آباد اور اس سے ملحقہ اضلاع جعفرآباد اور کچھی میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ اسال 2020 میں خواتین پرتشد کے مختلف واقعات میں 84 افراد مارے گیے تھے جس میں 66 خواتین اور 18 مرد شامل تھے-
ان میں سیاہ کاری کے الزام میں قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 51 جبکہ مردوں کی تعداد 18 تھی
ان کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں مقتولین پر بظاہر ناجائز جنسی تعلقات کا الزام لگایا جاتا ہے مگر اصل محرکات کچھ اور ہوتے ہیں۔
باہمی تنازعات، لین دین اور جائیداد کے جھگڑوں کی وجہ سے بھی لوگوں کو قتل کرکے انہیں ’سیاہ کار‘ کہا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کو رسم و رواج اور قبائلی روایات کا نام دے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اور انتظامیہ بھی ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے کتراتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نصیر آباد ڈویژن میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم کرنے کے لیے ان کی قرآن سے شادی کرانے کے واقعات کی شرح بھی زیادہ ہے۔ جو خواتین ایسا نہیں کرتیں انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔
انکے مطابق عورت فاﺅنڈیشن دیگر مقامی تنظیموں جس میں یو این وویمن اور جوڈیشل اکیڈیمی شامل یے کے ساتھ مشترکہ مہم میں پارلیمنٹرینز کے ساتھ میٹنگ، سیمینار، واک اور مباحثوں کا انعقاد کرتی ہے تاکہ حکومتی قوانین سمیت معاشرے باالخصوص نوجوان نسل کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی مل سکے ۔

Comments are closed.