Khabardar E-News

کوہلو: بچیوں کی تعلیم کے راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، رانا جمیل

15

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوہلو ( نذر بلوچ قلندرانی ) ڈگری کالج کوہلو کے پرنسیپل رانا جمیل نے بچیوں کی کلاسز کی اجرا اور حصول

تعلیم کیلئے ایک پر وقار میٹنگ منعقد کی جس میں علاقے کے معززین آفیسران اور سٹوڈنٹس نے بڑی تعداد

میں شرکت کی ہے،

اس موقع پر شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بچیوں کی حصول تعلیم کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین

دہانی کرائی ہے،

ڈگری کالج کوہلو کے پرنسیپل رانا جمیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو جیسے پسماندہ

علاقوں میں تعلیم کی اشد بہت فقدان ہے بلخصوص بچیوں کی تعلیم کے راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں،

انہوں نے کہا کہ کوہلو ایک قبائلی علاقہ ہے دوسری طرف یہاں بچیوں کو پڑھنے کیلئے فیمیل اسٹاف اور دیگر

سہولیات میسر نہیں ہیں، انہوں نے مزید کہا ہم محودد وساٸل میں رہ کر بچیوں کی تعلیم کیلئے کوشاں ہیں اور

کوشش کررہے ہیں کہ کوہلو کے باعزت بچیاں بھی حصول تعلیم کیلئے کسی سے پیچھے نہ رہیں اور کالج میں

آکر تعلیم حاصل کریں،

اس کے لئے ہم انہیں سہولیات اور بس فراہم کردینگے اور ڈگری کالج کوہلو میں بچیوں کیلئے ایک علیحد

پورشن بنائیں گے تاکہ ہمارے بیٹیاں باعزت طریقے سے اپنا تعلیم جاری رکھ سکیں،

پرنسیپل رانا جمیل نے علاقے کے معززین، والدین اور ضلعی آفیسران سے بھی تعاون کی مطالبہ کرتے ہوئے

کہا کہ اکیلا ہم کچھ نہیں کرسکتے اگر کوہلو کے باشند اور پڑھے لکھے لوگ بچیوں کی تعلیم کے حق میں ہیں

تو ہمارا ساتھ دیں

اور اپنے بچیوں کو ڈگری کالج کوہلو میں علم حاصل کرنے کیلئے بھیج دیں ہم ان بچیوں کو ایک باپ کی حیثیت

سے تعلیم جیسے نعمت سے اراستہ کرینگے

اسلام ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ علم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے کیونکہ علم کے بغیر انسان زندہ تو رہ

سکتے ہیں مگر انسان نہیں بن سکتے، یاد رہے اس موقعے پر سیاسی و قباٸلی عمائدین حاجی میر بہارخان

مری، میر باز محمد مری، 86 ونگ کے کرنل مقتدا، ایس پی کوہلو شاہد کمال، ڈپٹی ڈی ای او کوہلو حفیظ

مری، پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری میر جلیل احمد مری، وڈیرہ شہباز خان سومرانی مری، وڈیرہ

غازیخان لوہارانی، وڈیرہ وزیرہان لوہارانی، حاجی ابراہیم لانگہانی مری، یوتھ صدر مصری خان مری، پاکستان

شیرانی آرگنائزیشن کے عبدالرحیم مری و دیگر موجود تھے جنہوں نے پرنیسپل ڈگری کالج کوہلو کے کاوشوں

کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی ہے، دوسری طرف کوہلو کے علماء کرام اور قبائلی عمائدین

نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بلاشبہ کوئی شک نہیں کہ اسلام میں تعلیم

مرد اور عورت پر فرض ہے لیکن پردے میں رہ کر

انہوں نے کہا کہ فیمیل اسٹاف کے علاؤہ ہمارے لئے ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنے بچیوں کو کالج بھیج سکیں

انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی کوئی علاقے کا خیرخواہ اور بچیوں کو پڑھانے کے لئے کوشاں ہے تو

ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں

کوہلو گرلز کالج کو فوری طور بحال کیا جائے اگر یہ ممکن نہیں ہے تو فیمیل اسٹاف کی بندوبست کیا جائے،

قبائلی روایات اور دین اسلام کی پاسداری کرتے ہوئے یہ ہمارے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ ہم اپنی بچیوں کو میل

اسٹاف کے ساتھ پڑھا سکیں،

Comments are closed.