Khabardar E-News

بلوچستان حکومت کی کابینہ اجلاس اختلافات کا شکار

11

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بلوچستان حکومت کی کابینہ اجلاس اختلافات کا شکار

حکومت کی چارماہ بعد ہونے والے والی صوبائی کابینہ کا اجلاس اس وقت اختلافات کا شکار ہوا

جب گذشتہ روز کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ نے ۳۰ ارب کے اسکمیات کو غیرقانونی قرار دیا

جو منظوری کے لیے وزیراعلی کی جانب سے پیش کیے گیئے تھے

بلوچستان حکومت کی اس  اجلاس میں اختلافات اس کے بعد واضع ہوئی

جب گذشتہ شب کو صوبائی وزیر خزانہ میرظہور بلیدی نے ٹویٹ کیا

 اجلاس میں ہونیوالے واک آؤٹ کی کہانی سامنے آگئی

 ٹویٹ کے مطابق سنئیر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی نے نہ صرف  اجلاس سے

واک آؤٹ کیا بلکہ کہا کہ حکومت کے اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر زمرک اچکزئی

نے بھی  اختلافات کا اظہار کیا تھا

میرظہوربلیدی کاٹویٹ

میرظہور بلیدی نےاجلاس کے دوران پلاننگ کمیشن کے برخلاف منصوبے پیش ہونے پر واک آؤٹ کیا

، صوبائی وزیرکے مطابق پلاننگ کمیشن مینولز اور پی ایف ایم ایکٹ کے برخلاف 30 اعشاریہ 88 بلین کی

لاگت کے منصوبوں شامل کیے گئے ہیں

جس کے نتیجے میں رواں مالی سال کے تیسری سہ ماہی کے دوران اس عمل سے سی ایف او آئی اور پی ایس

ڈی پی بوجھ بڑھے گا،اور بعض نئے منصوبوں کی ے باعث دیگر منصوبے متاثر ہونگے

 پارلیمانی سیکرٹری  بشری رند کا جوابی وار

سنئیر صوبائی وزیر ظہور بلیدی کے ٹویٹ پر پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند نے کہا ہے کہ کابینہ کا

اجلاس وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کی صدارت ہوا

جس میں 36 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی ہے،

بشریٰ رندکے ٹویٹ کے مطابق ظہور بلیدی نے اکیلے واک آؤٹ کیا

انکے ہمراہ  کسی رکن نے واک آؤٹ نہیں کیا،

اورجمہوریت ہے سب کو اظہار رائے کی آزادی کا حق ہے

کابینہ میں پشتونوں کی نمائندگی نہیں ،پارلیمانی سیکرٹریز کے رشتہ برئفنگ لیتےہیں -جام کمال
واضع رہے کہ وزیراعلی میر قدوس بزنجو کی حکومت کے چار ماہ بعد ہونے والی کابینہ کے پہلے اجلاس مِیں

تیس ہزار خالی آسامیوں پرنوجوانوں کو روزگار دینے کا فیصلہ کیا گیا

جس سے عوامی سطع پر سراہا گیا ہے

1 Comment
  1. […] بلوچستان حکومت کی کابینہ اجلاس اختلافات کا شکار […]

Comments are closed.